چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور ہیومن اپیل این جی او کے درمیان ایم او یو پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سٹی42: چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور ہیومن اپیل این جی او کے درمیان بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
ایم او یو پر چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد اور ہیومن اپیل این جی او کے کنٹری ڈائریکٹر داؤد ثقلین نے دستخط کیے۔اس معاہدے کے تحت چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رہائش پذیر بچوں کو مختلف پیشہ ورانہ مہارتیں سکھائی جائیں گی تاکہ وہ مستقبل میں خود کفیل بن سکیں۔ منصوبے کے تحت بچوں کے لیے گرافک ڈیزائننگ، کوکنگ اور پلمبرنگ سمیت مختلف تربیتی کلاسز کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز، اورنج لائن کو گرین لائن سے جوڑ دیا گیا
اس موقع پر چیئرپرسن سارہ احمد نے ہیومن اپیل این جی او کے تعاون سے قائم کی گئی کینٹین کا افتتاح بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو عملی ہنر فراہم کرنا ان کی بحالی اور بہتر مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔
تقریب کے دوران ہیومن اپیل این جی او کے وفد کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے مختلف سیکشنز کا دورہ بھی کروایا گیا، جہاں انہیں بچوں کی دیکھ بھال، تعلیم اور تربیت سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 چائلڈ پروٹیکشن بیورو
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔