خواتین کیخلاف نازیبا سوشل میڈیا پوسٹ خطرناک ہے،تو بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیئے:سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ میں سوشل میڈیا پر خواتین کے خلاف نازیبا پوسٹیس لگانے والے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،سماعت جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔وکیل مدعی مقدمہ رضوان عباسی نے مو ¿قف اپنایا کہ ملزم طیب ڈار ایف آئی آر میں نامزد ہے، ملزم کے مواد سوشل میڈیا پر پھیلانے کے شواہد بھی موجود ہیں۔وکیل ملزم نے کہا کہ میرے بیٹے نے فیس بک پر ساری پوسٹیں لگائیں، بیٹا کچھ کرے تو باپ کے خلاف کیس نہیں بن سکتا، میرے نام کی سم بیٹا استعمال کرتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اتنا خطرناک ہے تو پھر بچوں کو موبائل نہیں دینا چاہیے۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ کیا ملزم کو کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے نمبر سے کیا ہوتا رہا۔وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ خواتین کے حوالے سے لگائی جانے والی پوسٹیں عدالت میں پڑھ بھی نہیں سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ایسا جرم ہوگا تو سختی سے دیکھنا ہوگا، ایسے کسی کی عزتیں نہیں اچھالنی چاہئیں۔وکیل مدعی نے کہا کہ تحقیقات کے مطابق باپ بیٹے دونوں موبائل استعمال کرتے تھے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ دستاویزی شواہد سارے ملزم کے خلاف ہیں۔عدالت نے دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے ریمارکس دیے کہ
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔