سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی ہے، جس کی تصدیق ان کے وکیل نے کر دی ہے۔

فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ یہ اپیل پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 133-B کے تحت اعلیٰ عدالتی فورم میں دائر کی گئی ہے۔

تاہم انہوں نے اپیل کی نوعیت اور قانونی نکات سے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

فیض حمید کی سزا، آئی ایس پی آر کا مؤقف

11 دسمبر کو فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (FGCM) کی کارروائی 12 اگست 2024ء کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع کی گئی، جو تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔

یہ بھی پڑھیے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ثابت،جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے مطابق طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم کو تمام الزامات میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے اور اسے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزم (فیض حمید) کا بعض سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی اشتعال، بے چینی اور عدم استحکام پیدا کرنے میں کردار اور دیگر چند معاملات کو علیحدہ طور پر نمٹا جا رہا ہے۔

رینک واپس لینے کا تاثر، باضابطہ تصدیق نہیں

آئی ایس پی آر کے بیان میں فیض حمید کو مسٹر فیض حمید، سابق لیفٹیننٹ جنرل کہہ کر مخاطب کیا گیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ممکنہ طور پر ان کا فوجی رینک واپس لے لیا گیا ہے۔ تاہم آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

اس وقت اندرونی معاملات سے واقف ایک ذریعے نے روزنامہ ڈان کو بتایا تھا کہ رینک واپس لینے کا عمل انتظامی حکم کے ذریعے کیا جاتا ہے، مگر اس کیس میں ایسا ہوا یا نہیں، اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

پس منظر: غیر معمولی فوجی ٹرائل

فیض حمید، جو نومبر 2022ء میں ریٹائر ہوئے تھے، پاکستان کی تاریخ کے پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور مجموعی طور پر دوسرے 3 اسٹار جنرل ہیں جنہیں مکمل فوجی ٹرائل کے بعد قید کی سزا سنائی گئی۔

ان کے خلاف مقدمے کا آغاز پراپرٹی ڈویلپر کنور معیز خان کی شکایت پر ہوا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ 2017ء میں، جب فیض حمید آئی ایس آئی میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، انہوں نے 2 دیگر افسران کے ساتھ مل کر شکایت کنندہ کے گھر اور دفاتر پر چھاپہ مارا، قیمتی سامان ضبط کیا اور انہیں 4 کروڑ روپے ادا کرنے اور ایک نجی ٹی وی چینل کی مالی معاونت پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیے جنرل فیض حمید کے خلاف سنگین الزامات جن کا فیصلہ ہونا باقی ہے

یہ معاملہ 2023ء میں اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو دفاعی وزارت سے رجوع کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد باضابطہ فوجی انکوائری شروع کی گئی۔

آرمی ایکٹ کی شقیں اور قانونی جواز

اگرچہ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت عام طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد صرف 6 ماہ کے اندر کارروائی کی اجازت ہوتی ہے، تاہم اس کیس میں مبینہ طور پر سیکشن 2(d) کا اطلاق کیا گیا، جو بعض مخصوص جرائم کی صورت میں ایسے افراد پر بھی فوجی قانون لاگو کرنے کی اجازت دیتا ہے جو براہِ راست فوجی قانون کے دائرے میں نہ ہوں۔

اس کے علاوہ، سیکشن 31 اور 40 کے تحت بغاوت، نافرمانی یا جائیداد سے متعلق دھوکہ دہی جیسے جرائم میں وقت کی قید کے بغیر بھی کورٹ مارشل کی اجازت دی گئی ہے۔

گرفتاری اور الزامات کی تفصیل

اپریل 2024ء میں قائم کورٹ آف انکوائری نے فیض حمید کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد کو کافی قرار دیا، جس کے بعد انہیں 12 اگست 2024ء کو گرفتار کر لیا گیا۔

بعد ازاں ان پر جو چارج شیٹ عائد کی گئی، اس میں الزامات کو 4 بنیادی زمروں میں تقسیم کیا گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کا ناجائز استعمال، بشمول 2017ء کا مبینہ چھاپہ، کنور معیز خان کے خلاف جبر کے ذریعے مالی نقصان پہنچانا۔

بعد میں اس تفتیش کا دائرہ دیگر ریٹائرڈ افسران تک بھی بڑھایا گیا، جن میں ریٹائرڈ بریگیڈیئر غفار، ریٹائرڈ بریگیڈیئر نعیم فخر اور ریٹائرڈ کرنل عاصم شامل ہیں، تاہم فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے میں ان کے بارے میں کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سابق سربراہ آئی ایس آئی فیض حمید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سابق سربراہ ا ئی ایس ا ئی فیض حمید آئی ایس پی آر فیض حمید کے آئی ایس آئی آرمی ایکٹ ایکٹ کی کے خلاف کے بعد گئی ہے تھا کہ کے تحت کی گئی کی سزا

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور