’’مشین گن جیسے ہونٹ‘‘ سے مشہور ٹرمپ کی سیکریٹری نے ماں بننے کا اشارہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی معاون کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی ذاتی زندگی کی خوشخبری مداحوں اور فالوورز کے ساتھ شیئر کی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد دوسری بار ماں بننے والی ہیں اور اس بار ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش متوقع ہے۔
کیرولین لیوٹ نے یہ اعلان انسٹاگرام پر ایک تصویر کے ذریعے کیا، جس میں وہ کرسمس ٹری کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہیں اور ان کا بیبی بمپ نمایاں ہے۔
پوسٹ میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر اپنے خاندان میں اضافے پر بے حد خوش ہیں اور بے صبری سے اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں جب ان کا بیٹا ایک بڑے بھائی کے طور پر نئی ذمے داری محسوس کرے گا۔
اپنی پوسٹ میں کیرولین لیوٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نے نہ صرف ان کی حمایت کی بلکہ وائٹ ہاؤس میں ایک خاندان دوست ماحول کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس سے کام اور ذاتی زندگی میں توازن قائم رکھنا ممکن ہوا۔
IT’S A GIRL! White House Press Secretary Karoline Leavitt and her husband, Nick, are expecting their second bundle of joy, a baby girl, due in May 2026.
Leavitt told FOX News Digital, "My heart is overflowing with gratitude to God for the blessing of motherhood, which I truly… pic.twitter.com/j1aACI4jBN — Fox News (@FoxNews) December 26, 2025
بعد ازاں فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیوٹ نے ماں بننے کے تجربے کو الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل خدا کے شکر سے بھرا ہوا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ ماں بننا زمین پر جنت جیسا احساس پانے کے مترادف ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق کیرولین لیوٹ اور ان کے شوہر نک کے ہاں دوسری اولاد مئی 2026 میں بیٹی کی صورت میں متوقع ہے۔ واضح رہے کہ کیرولین لیوٹ وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی سب سے کم عمر پریس سیکریٹری ہیں۔
کیرولین لیوٹ نے 2024 کی صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی نیشنل پریس سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں میڈیا سے جارحانہ سوالات کا پُراعتماد انداز میں جواب دینے کی وجہ سے وہ خاصی نمایاں ہوئیں۔ ان کی اسی بے باک اور تیز رفتار گفتگو کے باعث صدر ٹرمپ انہیں مزاحاً ’’مشین گن جیسے ہونٹ‘‘ کا لقب بھی دے چکے ہیں۔
Trump praised Karoline Leavitt: ‘When she goes on FOX, she dominates her lips go bop bop bop like a little machine gun, and she fears nothing because we have the right policy.’ pic.twitter.com/3rzHAWBAdP
— ????????RA???????? (@RanaAmjad583030) December 10, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیرولین لیوٹ نے وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔