کوئٹہ:

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش جبکہ زیارت سمیت پہاڑی علاقوں پر برفباری سے موسم مزید سرد ہوگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے متعدد علاقوں میں آج بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔

زیارت اور گردونواح میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی ہے۔ اسی طرح چمن کے علاقے توبہ اچکزئی میں بھی وقفے وقفے سے برفباری ہو رہی ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

https://www.

facebook.com/share/r/1AKm9ajjiS/

کوئٹہ شہر اور اس کے اطراف کے علاقوں کے علاوہ مستونگ، قلات، بولان، پشین اور نوشکی میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ گوادر، جیوانی، لسبیلہ، کیچ، چاغی، قلعہ عبداللہ، دکی، لورالائی، حب اور دیگر علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش کی اطلاعات ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے داخل ہونے کے بعد صوبے کے بیشتر اضلاع میں 31 دسمبر تک بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی کیفیت کا امکان ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں مزید برفباری بھی متوقع ہے۔

ممکنہ برفباری کے پیش نظر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے قومی شاہراہوں پر 18 کیمپس قائم کر دیے ہیں۔ این ایچ اے حکام کے مطابق برف ہٹانے کے لیے مشینری اور تربیت یافتہ عملہ کیمپس میں موجود ہے۔ عوام کو بارش اور برفباری کے دوران احتیاط برتنے اور اوور اسپیڈنگ سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

چمن میں گزشتہ شب سے بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ بعض علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گلدارہ باغیچہ میں گھروں کی دیواریں گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

توبہ اچکزئی، زیارت، کوئٹہ اور چمن شاہراہ کوژک ٹاپ پر برفباری کے باعث سڑک پر پھسلن پیدا ہوگئی ہے، تاہم این ایچ اے اور پی ڈی ایم اے کے اہلکار مشینری کے ذریعے سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاقوں میں کے مطابق

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری