معروف امریکی پاپ گلوکارہ بیونسے دنیا کی پانچویں ارب پتی موسیقار بن گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
عالمی سپر اسٹار بیونسے نے باقاعدہ طور پر ارب پتی کلب میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ فوربس کے مطابق بیونسے اب دنیا کی پانچویں موسیقار ہیں جو ارب پتی بنیں۔ اس فہرست میں ان کے شوہر جے زی، ریحانہ، بروس اسپرنگزٹین اور ٹیلر سوئفٹ پہلے سے شامل ہیں۔
بیونسے کی دولت میں اضافہ ان کی شاندار لائیو پرفارمنس اور کاروباری منصوبوں کی بدولت ہوا ہے۔ ان کے ’کاؤ بوائے کارٹر‘ ٹور نے صرف ٹکٹ کی فروخت سے 400 ملین ڈالر سے زائد کی آمدنی حاصل کی جبکہ مرچنڈائز سے مزید 50 ملین ڈالر کی کمائی ہوئی۔ اس سے قبل ان کا ’رینائسنس‘ ورلڈ ٹور 579 ملین ڈالر سے زائد کا ریونیو حاصل کر چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 پاکستانی اسٹارٹ اپس نے فوربس ایشیا کی ’100 ٹو واچ‘ لسٹ میں جگہ بنالی
فوربس کے مطابق بیونسے کی زیادہ تر دولت موسیقی سے حاصل ہوتی ہے جس میں ٹورز، کیٹلاگ ریونیو اور اپنے کام کی ملکیت شامل ہے۔ 2010 میں پارک وُڈ انٹرٹینمنٹ کے قیام کے بعد انہوں نے اپنی موسیقی، فلمیں، کنسرٹس اور ڈاکیومنٹریز کو مکمل طور پر اندرونِ خانہ منظم کیا۔
ان کا 2024 کا البم ’کاؤ بوائے کارٹر‘ بھی ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا اور اسے ’آلبم آف دی ایئر‘ گرامی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد جو ٹور ہوا وہ 2025 کا سب سے زیادہ کمائی کرنے والا میوزک ٹور بن گیا جس میں 350 عملے کے ارکان، 100 سیمی ٹرک اور 8 بوئنگ 747 کارگو طیارے استعمال ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 میں دنیا کے 10 امیر ترین افراد: کن کی دولت میں کمی آئی اور کون مزید امیر بن گئے؟
بیونسے نے اپنے کیریئر کا آغاز 1990 کی دہائی کے آخر میں گروپ ’ڈیسٹنیز چلڈ‘ کے ساتھ کیا اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں سولو کیریئر کی طرف بڑھی۔ آج وہ گرامی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ایوارڈ یافتہ اور سب سے زیادہ نامزد ہونے والی آرٹسٹ ہیں۔
ان کی حالیہ آمدنی میں 2024 کے این ایف ایل کرسمس ہاف ٹائم شو ’بیونسے باؤل‘ کے لیے تقریباً 50 ملین ڈالر اور لیوائز کے اشتہارات کے لیے 10 ملین ڈالر شامل ہیں۔
فوربس کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں 3,000 سے زیادہ ارب پتی موجود ہیں۔ تاہم ان میں سے بہت کم لوگ ثقافت، شاندار پرفارمنس اور بے مثال اسٹار پاور کو ارب ڈالر کے کاروبار میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں جیسا کہ بیونسے نے کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیونسے دنیا کی امیر شخصیت فوربس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیونسے دنیا کی امیر شخصیت فوربس ملین ڈالر سے زیادہ ارب پتی
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر