سندھ کابینہ کا اجلاس: میونسپل اسکولوں کے انتظامات فاؤنڈیشن کو دینے کی منظوری سمیت اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سندھ کابینہ نے ملیر، چنیسر اور لیاری کے میونسپل اسکولوں کے انتظامات ٹی سی ایف (دی سٹیزن فاؤنڈیشن) کے سپرد کرنے کی منظوری دے دی۔
سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز و افسران نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: سندھ کابینہ نے متعدد ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی منظوری دے دی
ترجمان کے مطابق ای سی سی کے فیصلے کے تحت 21 میونسپل اسکولوں میں مفت معیاری تعلیم، یونیفارم اور تعلیمی سامان فراہم کیا جائے گا، جبکہ اسکولوں کی تعمیر، مرمت اور انتظامی امور کی ذمہ داری ٹی سی ایف کو دی جائے گی۔
کابینہ نے فیصلہ کیاکہ میونسپل کارپوریشنز اسکولوں کی زمین اور عمارتیں مفت فراہم کریں گی، اور معاہدہ ابتدائی طور پر 25 سال کے لیے طے پایا ہے، جسے بعد میں باہمی رضامندی سے توسیع دی جا سکتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اسکولوں کی فوری تعمیر و بحالی اور فعال کاری ممکن ہو سکے گی۔ یہ منظوری محکمہ بلدیات سندھ کی سفارش پر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے سندھ لینڈ مینجمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو بند کرنے کی بھی منظوری دی۔
ترجمان کے مطابق یہ کمپنی 2010 میں بورڈ آف ریونیو کے تحت قائم کی گئی تھی اور زمین کی ترقیاتی منصوبہ بندی، شہری، رہائشی، تجارتی اور صنعتی پلاٹس کی منصوبہ بندی کے کام کرتی تھی۔
ذوالفقارآباد اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بعد کمپنی کی سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں، اور اب کابینہ نے باضابطہ طور پر اسے بند کرنے کی منظوری دی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے نفاذ کے لیے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کی جائے گی، اور یہ انشورنس نئے سال سے نافذ العمل ہوگی۔ ساتھ ہی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پر سیلز ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ سے سیلاب زدگان کی امداد کی اپیل کرنی چاہیے، وزیر اعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ بیشتر ٹریفک حادثات میں متاثرہ افراد کو معاوضہ نہیں مل پاتا، اور حکومت ایسے اقدامات کرے گی جو متاثرین کو ان کے قانونی حقوق فراہم کریں۔ انشورنس کلیمز کے سلسلے میں 24 گھنٹے ہیلپ لائن قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
کابینہ نے موٹر وہیکل ایکٹ کی شق 19 اور 20 میں ترمیم کی منظوری دی اور اس بل کو سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سندھ کابینہ اجلاس مراد علی شاہ منظوری میونسپل اسکول وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سندھ کابینہ اجلاس مراد علی شاہ میونسپل اسکول وی نیوز سندھ کابینہ نے کی منظوری کرنے کی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔