WE News:
2026-07-24@01:25:59 GMT

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 2.8 ارب ریٹیل ادائیگیاں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کی جانب قدم، ایک اور سنگ میل عبور کرلیا گیا

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں ریٹیل ادائیگیوں میں 10 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ریٹیل ادائیگیوں کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 66 ہزار ارب پاکستانی روپے سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل ایپس کے ذریعے ادائیگیاں بینکاری نظام کو وسعت دے رہی ہیں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد ریٹیل ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں جبکہ نقد ادائیگیوں کا حصہ صرف 10 فیصد رہا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے ادائیگیوں کے اعداد و شمار پاکستان کے تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے نظام کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ‘صرف کیش’، ڈیجیٹل پیمنٹ وصول نہ کرنے پر اسلام آباد کا معروف ریسٹورنٹ سیل

مرکزی بینک کے مطابق موبائل ایپس کے ذریعے 2 ارب ادائیگیاں کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 33 ہزار 700 ارب روپے رہی۔ مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں موبائل ایپس کا حصہ 81 فیصد رہا۔

اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ انٹرنیٹ بینکاری اور کارڈ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 6 کروڑ 13 لاکھ پیمنٹ کارڈز زیرِ گردش ہیں جن میں 90 فیصد ڈیبٹ کارڈز جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈز شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فوری ادائیگی نظام ’راست‘ کے ذریعے فرد سے فرد کو کی جانے والی ادائیگیوں کی مالیت 11 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ فرد سے مرچنٹ کو راست کے ذریعے 43 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں جن کی مالیت 17 ارب روپے رہی۔ مجموعی طور پر راست کے ذریعے 12 ہزار 800 ارب روپے کی 54 کروڑ 40 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کارڈز کے ذریعے یومیہ اوسطاً 15 لاکھ ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ملک میں موجود 20 ہزار 527 اے ٹی ایمز کے نیٹ ورک سے 3 ماہ میں 2 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 4 ہزار 500 ارب روپے رہی۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت

مرکزی بینک نے بتایا کہ 3 ماہ کے دوران بینکوں کے ذریعے 1 لاکھ 10 ہزار ارب روپے کی ایک کروڑ 37 لاکھ ادائیگیاں ہوئیں، جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹس نے ایک کروڑ 29 لاکھ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 900 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈیجیٹل ادائیگیاں راست فوری ادائیگی نظام ’راست‘.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فوری ادائیگی نظام راست ادائیگیاں کی گئیں اسٹیٹ بینک کے مطابق کے ذریعے ارب روپے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم