پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 2.8 ارب ریٹیل ادائیگیاں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کی جانب قدم، ایک اور سنگ میل عبور کرلیا گیا
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں ریٹیل ادائیگیوں میں 10 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی میں ریٹیل ادائیگیوں کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 66 ہزار ارب پاکستانی روپے سے تجاوز کر گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل ایپس کے ذریعے ادائیگیاں بینکاری نظام کو وسعت دے رہی ہیں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد ریٹیل ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں جبکہ نقد ادائیگیوں کا حصہ صرف 10 فیصد رہا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے ادائیگیوں کے اعداد و شمار پاکستان کے تیزی سے ڈیجیٹل ہوتے نظام کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: ‘صرف کیش’، ڈیجیٹل پیمنٹ وصول نہ کرنے پر اسلام آباد کا معروف ریسٹورنٹ سیل
مرکزی بینک کے مطابق موبائل ایپس کے ذریعے 2 ارب ادائیگیاں کی گئیں جن کی مجموعی مالیت 33 ہزار 700 ارب روپے رہی۔ مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں موبائل ایپس کا حصہ 81 فیصد رہا۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ انٹرنیٹ بینکاری اور کارڈ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 6 کروڑ 13 لاکھ پیمنٹ کارڈز زیرِ گردش ہیں جن میں 90 فیصد ڈیبٹ کارڈز جبکہ 4 فیصد کریڈٹ کارڈز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فوری ادائیگی نظام ’راست‘ کے ذریعے فرد سے فرد کو کی جانے والی ادائیگیوں کی مالیت 11 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ فرد سے مرچنٹ کو راست کے ذریعے 43 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں جن کی مالیت 17 ارب روپے رہی۔ مجموعی طور پر راست کے ذریعے 12 ہزار 800 ارب روپے کی 54 کروڑ 40 لاکھ ادائیگیاں کی گئیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ کارڈز کے ذریعے یومیہ اوسطاً 15 لاکھ ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ملک میں موجود 20 ہزار 527 اے ٹی ایمز کے نیٹ ورک سے 3 ماہ میں 2 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 4 ہزار 500 ارب روپے رہی۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت
مرکزی بینک نے بتایا کہ 3 ماہ کے دوران بینکوں کے ذریعے 1 لاکھ 10 ہزار ارب روپے کی ایک کروڑ 37 لاکھ ادائیگیاں ہوئیں، جبکہ برانچ لیس بینکاری ایجنٹس نے ایک کروڑ 29 لاکھ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 900 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیجیٹل ادائیگیاں راست فوری ادائیگی نظام ’راست‘.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فوری ادائیگی نظام راست ادائیگیاں کی گئیں اسٹیٹ بینک کے مطابق کے ذریعے ارب روپے
پڑھیں:
مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔
اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔
اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔
اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز