ایم آر ڈی تحریک کے کارکن آج بھی بے روزگاری کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تحریکِ بحالیٔ جمہوریت (ایم آر ڈی) کے دوران جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینکڑوں جیالے آج بھی بے روزگاری اور شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کارکنوں کی قربانیوں کا عملی اعتراف نہ ہونا مایوسی اور محرومی کے احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
1983ء کی ایم آر ڈی تحریک میں سندھ بھر سے ہزاروں سیاسی کارکنوں نے آمریت کے خلاف آواز بلند کی، جنہوں نے گرفتاریوں، قید و بند کی صعوبتوں، تشدد اور کوڑوں کا سامنا کیا، جبکہ متعدد کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ اس تاریخی جدوجہد کے باوجود آج ان میں سے بڑی تعداد روزگار، علاج معالجے اور بنیادی معاشی سہولیات سے محروم نظر آتی ہے۔
متاثرہ جیالوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں، مگر جب جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں تو انہی کارکنوں کو نظرانداز کر دیا گیا جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
ان کا شکوہ ہے کہ مختلف ادوار میں سرکاری ملازمتیں اور مراعات میرٹ کے بجائے سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہوتی رہیں، جبکہ نظریاتی اور جدوجہد کرنے والے کارکن مسلسل محرومی کا شکار رہے۔
جیالوں کے مطابق اس طرزِ عمل کے نتیجے میں آج کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور وہ کارکن جو کبھی جمہوریت کے لیے سینہ سپر رہے، اب بڑھاپے میں شدید مالی دباؤ اور بے بسی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ریاست اور متعلقہ سیاسی قیادت ان قربانیوں کا اعتراف کرے اور ایم آر ڈی کے کارکنوں کے لیے روزگار، علاج اور فلاحی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیاں محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہ رہ جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔