آبروریزی کی متاثرہ نے کہا کہ میرے شوہر کی نوکری چھین لی گئی، میرے بچوں اور گواہوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، جن لوگوں کے نام ہم سی بی آئی کے سامنے لیتے ہیں، انہیں تحفظ دیا جانا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ 2017ء کے اَناؤ آبروریزی معاملے کی متاثرہ کو انصاف دلانے کے مطالبے پر کانگریس کارکنوں نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی تعطیلاتی بنچ، جس کی قیادت چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کر رہے ہیں، آج سی بی آئی کی اس عرضی پر سماعت کرے گی جس میں دہلی ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت اناؤ آبروریزی کیس کے مجرم و بی جے پی لیڈر کلدیپ سنگر کی عمر قید کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے ضمانت دی گئی تھی۔

آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا کی قیادت میں کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ خاتون کارکن یوگیتا بھیانا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ کو انصاف ملنے کی پوری امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ کو امید ہے کہ اسے انصاف ملے گا، اس کی صحت مستحکم ہے اور اس وقت وہ خود عدالت کے اندر موجود ہے کیونکہ وہ اپنی قانونی لڑائی خود لڑنا چاہتی ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ اس لڑکی کو انصاف فراہم کرے گی۔

دہلی ہائی کورٹ نے 23 دسمبر کو سابق بی جے پی کے رکن اسمبلی کلدیپ سنگر کی عمر قید کی سزا کو اپیل کے التوا میں معطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کی تھی۔ کلدیپ سنگر کو دسمبر 2019ء میں اناؤ ریپ کیس میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اس کیس میں ضمانت ملنے کے باوجود وہ جیل میں ہی رہے گا کیونکہ وہ سی بی آئی کے ایک اور قتل سے متعلق مقدمے میں 10 سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔

اتوار کے روز متاثرہ نے کہا تھا کہ اسے سپریم کورٹ سے انصاف ملنے کا پورا یقین ہے۔ اس نے اترپردیش کے وزیراعلٰی یوگی آدتیہ ناتھ سے اپیل کی کہ اسے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی قانونی لڑائی جاری رکھ سکے۔ آل انڈیا پروگریسیو ویمنز ایسوسی ایشن (اے آئی پی ڈبلیو اے) کے زیر اہتمام دہلی میں منعقدہ احتجاج کے دوران متاثرہ نے الزام لگایا کہ کلدیپ سنگر نے سی بی آئی کے تفتیشی افسر اور دہلی ہائی کورٹ کے ایک جج کو رشوت دی ہے۔

متاثرہ نے کہا "مجھے پورا بھروسہ ہے کہ سپریم کورٹ مجھے انصاف دے گی۔ کلدیپ سنگر نے دہلی ہائی کورٹ کے جج اور سی بی آئی کے تفتیشی افسر کو رشوت دی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر کی نوکری چھین لی گئی، میرے بچوں اور گواہوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جن لوگوں کے نام ہم سی بی آئی کے سامنے لیتے ہیں، انہیں تحفظ دیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ "میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے گزارش کرتی ہوں کہ مجھے اس طرح تحفظ فراہم کریں کہ میں بے خوف ہو کر اپنی لڑائی لڑ سکوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دہلی ہائی کورٹ سی بی آئی کے سپریم کورٹ کلدیپ سنگر متاثرہ کو متاثرہ نے نے کہا کہ کو انصاف کورٹ کے کی سزا

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان