بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بارشیں کہیں برفباری، کیا خشک سالی کا خاتمہ ہو پائے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بیشتر علاقوں میں سردی برقرار جبکہ چند مقامات پر ہلکی بارش متوقع
محکمہ موسمیات کے مطابق چمن میں 15 ملی میٹر، جیوانی میں 13 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمونگلی میں 7 ملی میٹر، کوئٹہ کے شہری علاقوں میں 6 ملی میٹر، اورماڑہ میں 3 ملی میٹر، پشین میں 2.
ادھر ضلع قلعہ عبداللہ، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، چمن، پشین اور مسلم باغ کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یکم جنوری تک بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان گزشتہ 9 ماہ سے شدید بارشوں کی کمی کا شکار رہا ہے۔ اس طویل خشک سالی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی، کاریزیں اور کنویں خشک ہو گئے، زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی اور مویشیوں کو چارے اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا تھا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان میں پہلی بارش و برفباری، پنجاب میں شدید دھند سے موٹرویز بند
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے ماہر ارضیات ڈاکٹر دین محمد نے بتایا کہ خشک سالی کے اثرات کم کرنے کے لیے بلوچستان کو آئندہ چند مہینوں میں معمول سے کہیں زیادہ بارش درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق زیرِ زمین آبی ذخائر کی بحالی، زراعت کی بہتری اور چراگاہوں کی بحالی کے لیے کم از کم کئی مؤثر بارشوں کے سلسلے درکار ہوں گے کیونکہ ایک یا دو بارشیں طویل عرصے کے نقصانات کا ازالہ نہیں کر سکتیں۔
دین محمد کا کہنا تھا کہ اگر باراں رحمت کی بوندیں آسمان سے نہ برسی تو آئندہ آنے والے سال بھی صوبے میں خشک سالی کا سال ہوگا۔
کسانوں اور مقامی آبادی نے حالیہ بارش کو امید کی کرن قرار دیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بھی بارشوں کا تسلسل برقرار رہا تو ہی فصلوں، باغات اور مویشیوں کے حالات بہتر ہو سکیں گے۔
مزید پڑھیں: شدید بارش اور برفباری کی وارننگ، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارش اور برفباری کے امکانات موجود ہیں جو اگر مسلسل رہے تو بلوچستان میں جاری خشک سالی کے اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بارش کوئٹہ کوئٹہ برفباری کوئٹہ موسم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بارش کوئٹہ کوئٹہ برفباری کوئٹہ موسم علاقوں میں ملی میٹر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔