’بھارت کی جارحانہ حکمت عملی ناکام، پاکستان کو ہر وقت تیار رہنا ہو گا‘
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور انفارمیشن سروس اکیڈمی کے زیراہتمام ’بھارت کی جارحیت، پاکستان کا اسٹریٹجک ردعمل اور مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے عنوان سے ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں عسکری، سفارتی اور تذویراتی ماہرین نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال پر جامع گفتگو کی۔
مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہاکہ بھارت اس وقت خود اپنے ہی بنائے ہوئے خطرناک راستے پر گامزن ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا حد سے بڑھا ہوا اعتماد ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا کے پاکستان بھارت تعلقات سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی جارحانہ سوچ کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت کے اسٹریٹجک مفروضات غلط ثابت ہو چکے ہیں اور وہ خطے میں کوئی ’نیو نارمل‘ مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کو آپریشن سندور ترک کرکے سفارتکاری، حقیقت پسندی اور تحمل کی راہ اپنانا ہوگی۔
جنرل (ر) زبیر محمود حیات کے مطابق پورے جنوبی ایشیا میں بھارت پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اب تمام ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات محض لین دین (Transactional) کی سطح تک محدود ہیں۔ امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ روس کے ساتھ اس کا پرانا تعلق بھی اب کوئی خاص فائدہ نہیں دے رہا۔
’ہندوتوا نظریے نے بھارت کے لیے اسٹریٹجک اسپیس محدود کردی ہے، جس کے باعث اسے نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ بھارت اس وقت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔‘
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے، اپنی معاشی طاقت اور سیاسی استحکام کو مضبوط بنانا ہوگا اور قابلِ اعتماد ڈیٹرینس کے لیے سرمایہ کاری کا عمل برقرار رکھنا چاہیے۔ بھارت تحمل کو طاقت اور سفارتکاری کو حکمتِ عملی بنانے میں ناکام رہا ہے، اس لیے پاکستان کو ہر مشکل وقت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر اور سابق سفیر جوہر سلیم نے کہاکہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو ’نیو نارمل‘ قرار دینا ایک غیر سنجیدہ اور بغیر سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی۔
ان کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، تاہم اس سے فائدہ صرف دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی نے کہاکہ بھارت نے جب بھی پاکستان کو آزمایا، اسے منہ توڑ جواب ملا۔ بھارت اس وقت دنیا بھر سے جدید ترین ہتھیار خرید رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں ایک بڑے کردار کا خواہشمند رہا ہے، مگر بھارت کے اندرونی حالات میں ہونے والا ہر واقعہ بالآخر پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیاکہ مستقبل میں بھی بھارتی جارحیت کے لیے تیار رہنا ہو گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت کی انا شدید مجروح ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی اقدامات کسی صورت کم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہاکہ دنیا میں کسی کو بھی پاکستان کے عزم کا امتحان نہیں لینا چاہیے۔ سال 2025 پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہوا ہے اور ملک کو اسی سمت میں اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ جنگیں صرف فوج نہیں بلکہ قومیں لڑا کرتی ہیں۔
جنرل خالد ربانی نے کہاکہ آپریشن سندور خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری صورتحال کے تناظر میں جاری ہے اور ہمیں الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ بھارت کو تین اہم حقائق کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں اول یہ کہ اس کے پاس اتنی فوجی طاقت نہیں جتنی وہ خود سمجھتا تھا، دوسرا وہ چین کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور تیسری بات یہ کہ پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینے کا بھارتی بیانیہ دنیا نے قبول نہیں کیا۔
انہوں نے کہاکہ اس کے برعکس پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا ہے، اس نے اپنے سے بڑے دشمن کو مؤثر جواب دیا اور دنیا میں اس کی تکریم میں اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق بھارت مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست فوجی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے دوبارہ تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔
اعزاز چوہدری نے مستقبل قریب میں بھارتی جارحیت کے امکان کو اس لیے بھی مسترد کیا کہ بھارتی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں بھارت دراصل صرف پاکستان نہیں بلکہ چین کے ساتھ بھی محاذ پر تھا۔
اعزاز چوہدری نے کہاکہ چینی قیادت کی جانب سے سی پیک ٹو کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ چین پاکستان پر اعتماد کرتا ہے۔ پاکستان کو چین اور امریکا دونوں کے ساتھ متوازن اور بہتر تعلقات قائم رکھنے چاہییں۔
انہوں نے افغانستان کے معاملے کو نظر انداز نہ کرنے پر زور دیا اور کہاکہ طالبان نے اپنا اصل روپ دکھا دیا ہے جبکہ بھارت افغانستان میں پاکستان کے خلاف شورش کو ہوا دیتا رہا ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاک دفاعی معاہدے نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک سٹیبلیٹی کی صدر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح ایئر فورس کے اسٹریٹجک اور مؤثر استعمال سے میدان میں برتری حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی ایک طاقت بھی بنا دیا ہے۔ پاکستان اب لیبیا، سوڈان اور ایران کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی کام کرے گا اور ہم ایک بات کو مس کر رہے ہیں کہ جس طرح سے افغانستان میں یکایک خاموشی ہو گئی جو کہ سفارتی اور فوجی حکمت عملی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کے لیے پاکستان سے تعلقات خراب نہیں کرسکتے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیاکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کو دفاعی تیاری، سفارتی فعالیت اور معاشی استحکام کے تینوں محاذوں پر بیک وقت مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ بھارت کا نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کا خواب چکنا چور ہو گیا اور پاکستان ایک سیکیورٹی فورس کے طور پر سامنے آیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی حکمت عملی ناکام پاک امریکا تعلقات پاکستان بھارت جنگ پاکستان چین تعلقات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی حکمت عملی ناکام پاک امریکا تعلقات پاکستان بھارت جنگ پاکستان چین تعلقات وی نیوز نے کہاکہ بھارت میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کو کے مطابق بھارت کی انہوں نے بھارت کے کہ بھارت کے ساتھ کے لیے ہے اور رہا ہے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔