انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز اور انفارمیشن سروس اکیڈمی کے زیراہتمام ’بھارت کی جارحیت، پاکستان کا اسٹریٹجک ردعمل اور مستقبل کا لائحہ عمل‘ کے عنوان سے ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں عسکری، سفارتی اور تذویراتی ماہرین نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتِ حال پر جامع گفتگو کی۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہاکہ بھارت اس وقت خود اپنے ہی بنائے ہوئے خطرناک راستے پر گامزن ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا حد سے بڑھا ہوا اعتماد ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا کے پاکستان بھارت تعلقات سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی جارحانہ سوچ کے باعث علاقائی اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت کے اسٹریٹجک مفروضات غلط ثابت ہو چکے ہیں اور وہ خطے میں کوئی ’نیو نارمل‘ مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کو آپریشن سندور ترک کرکے سفارتکاری، حقیقت پسندی اور تحمل کی راہ اپنانا ہوگی۔

جنرل (ر) زبیر محمود حیات کے مطابق پورے جنوبی ایشیا میں بھارت پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور اب تمام ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات محض لین دین (Transactional) کی سطح تک محدود ہیں۔ امریکا کے ساتھ بھارت کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں جبکہ روس کے ساتھ اس کا پرانا تعلق بھی اب کوئی خاص فائدہ نہیں دے رہا۔

’ہندوتوا نظریے نے بھارت کے لیے اسٹریٹجک اسپیس محدود کردی ہے، جس کے باعث اسے نئی سوچ اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ بھارت اس وقت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے، اپنی معاشی طاقت اور سیاسی استحکام کو مضبوط بنانا ہوگا اور قابلِ اعتماد ڈیٹرینس کے لیے سرمایہ کاری کا عمل برقرار رکھنا چاہیے۔ بھارت تحمل کو طاقت اور سفارتکاری کو حکمتِ عملی بنانے میں ناکام رہا ہے، اس لیے پاکستان کو ہر مشکل وقت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدر اور سابق سفیر جوہر سلیم نے کہاکہ بھارت کی جانب سے آپریشن سندور کو ’نیو نارمل‘ قرار دینا ایک غیر سنجیدہ اور بغیر سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی۔

ان کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، تاہم اس سے فائدہ صرف دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی نے کہاکہ بھارت نے جب بھی پاکستان کو آزمایا، اسے منہ توڑ جواب ملا۔ بھارت اس وقت دنیا بھر سے جدید ترین ہتھیار خرید رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں ایک بڑے کردار کا خواہشمند رہا ہے، مگر بھارت کے اندرونی حالات میں ہونے والا ہر واقعہ بالآخر پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیاکہ مستقبل میں بھی بھارتی جارحیت کے لیے تیار رہنا ہو گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت کی انا شدید مجروح ہے۔ پاکستان اپنے دفاعی اقدامات کسی صورت کم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہاکہ دنیا میں کسی کو بھی پاکستان کے عزم کا امتحان نہیں لینا چاہیے۔ سال 2025 پاکستان کے لیے مثبت ثابت ہوا ہے اور ملک کو اسی سمت میں اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔ جنگیں صرف فوج نہیں بلکہ قومیں لڑا کرتی ہیں۔

جنرل خالد ربانی نے کہاکہ آپریشن سندور خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری صورتحال کے تناظر میں جاری ہے اور ہمیں الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔

سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہاکہ بھارت کو تین اہم حقائق کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں اول یہ کہ اس کے پاس اتنی فوجی طاقت نہیں جتنی وہ خود سمجھتا تھا، دوسرا وہ چین کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور تیسری بات یہ کہ پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینے کا بھارتی بیانیہ دنیا نے قبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہاکہ اس کے برعکس پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا ہے، اس نے اپنے سے بڑے دشمن کو مؤثر جواب دیا اور دنیا میں اس کی تکریم میں اضافہ ہوا۔

ان کے مطابق بھارت مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ براہِ راست فوجی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے دوبارہ تیاری کے لیے وقت درکار ہے۔

اعزاز چوہدری نے مستقبل قریب میں بھارتی جارحیت کے امکان کو اس لیے بھی مسترد کیا کہ بھارتی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں بھارت دراصل صرف پاکستان نہیں بلکہ چین کے ساتھ بھی محاذ پر تھا۔

اعزاز چوہدری نے کہاکہ چینی قیادت کی جانب سے سی پیک ٹو کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ چین پاکستان پر اعتماد کرتا ہے۔ پاکستان کو چین اور امریکا دونوں کے ساتھ متوازن اور بہتر تعلقات قائم رکھنے چاہییں۔

انہوں نے افغانستان کے معاملے کو نظر انداز نہ کرنے پر زور دیا اور کہاکہ طالبان نے اپنا اصل روپ دکھا دیا ہے جبکہ بھارت افغانستان میں پاکستان کے خلاف شورش کو ہوا دیتا رہا ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ پاک دفاعی معاہدے نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط کیا ہے۔

ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک سٹیبلیٹی کی صدر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح ایئر فورس کے اسٹریٹجک اور مؤثر استعمال سے میدان میں برتری حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی ایک طاقت بھی بنا دیا ہے۔ پاکستان اب لیبیا، سوڈان اور ایران کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی کام کرے گا اور ہم ایک بات کو مس کر رہے ہیں کہ جس طرح سے افغانستان میں یکایک خاموشی ہو گئی جو کہ سفارتی اور فوجی حکمت عملی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے لیے پاکستان سے تعلقات خراب نہیں کرسکتے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا

مقررین نے اس بات پر اتفاق کیاکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات میں پاکستان کو دفاعی تیاری، سفارتی فعالیت اور معاشی استحکام کے تینوں محاذوں پر بیک وقت مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ بھارت کا نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر کا خواب چکنا چور ہو گیا اور پاکستان ایک سیکیورٹی فورس کے طور پر سامنے آیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارتی حکمت عملی ناکام پاک امریکا تعلقات پاکستان بھارت جنگ پاکستان چین تعلقات وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی حکمت عملی ناکام پاک امریکا تعلقات پاکستان بھارت جنگ پاکستان چین تعلقات وی نیوز نے کہاکہ بھارت میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کو کے مطابق بھارت کی انہوں نے بھارت کے کہ بھارت کے ساتھ کے لیے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا