کچھ حلقے گنے کی فصل کے ذخائر دوسری فصل پر لگانے کی مضحکہ خیز مہم چلارہے ہیں، شوگر ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ حلقوں کی جانب سے مضحکہ خیز بیانیہ بناکر گنے کی فصل کے وسائل کسی اور فصل پر منتقل کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا ہنگامہ اجلاس ہوا جس میں حکومت اقدامات اور موجودہ صورت حال پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مضحکہ خیز بیانیہ تیار کیا جا رہا کہ ملکی چینی کی ضروریات درآمدات سے پوری ہو سکتی ہیں، کچھ حلقے گنے پر لگے وسائل کو کسی خاص فصل پر منتقل کرنےکی مہم چلا رہے ہیں۔
اعلامیے میں سوال کیا گیا ہے کہ گنا ملک کی ایک اہم فصل ہے جو بدلتے ہوئے موسمی تغیرات کو برداشت کر سکتی ہے، گنا کسانوں کیلئے مالی اورموسمی دونوں لحاظ سے سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ فصل ہے۔
مزید پڑھیںشوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیرحاضر 6 ایف بی آر اہلکار معطل
ایسوسی ایشن نے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے بڑا گنے سے چینی پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس وجہ سے شوگر انڈسٹری میں ایک لاکھ سے زیادہ افرادی قوت کام کرتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شوگر انڈسٹری ہر سال 6 ملین میٹرک ٹن قابلِ برآمد سرپلس چینی پیدا کر سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن ایک خوش آئند قدم ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت شوگر انڈسٹری کی ڈی ریگولیشن کے حوالے سے ایک مستقل پالیسی اپنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔