طویل انتظار کے بعد بارشیں برسانے والا نظام ملک میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
طویل انتظار کے بعد بارشیں برسانے والا نظام ملک میں داخل WhatsAppFacebookTwitter 0 30 December, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)محکمہ موسمیات کے مطابق طویل انتظار کے بعد بارشیں برسانے والا نظام ملک میں داخل ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق آج سے 2 جنوری تک ملک کے مختلف حصوں میں بارشیں جاری رہنے کا امکان ہے، ملک کے بالائی علاقوں کے ساتھ پنجاب کے متعدد شہر بھی مستفید ہوں گے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ اور جمعرات کو لاہور میں اچھی بارش برسنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جنوری میں بھی دو سے تین سسٹمز کی آمد متوقع ہے۔دوسری جانب کوئٹہ میں چمن کے علاقے گلدارباغیچہ میں موسلادھار بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، موسلا دھار بارش کے باعث سیلابی ریلہ آبادی میں داخل ہوگیا۔
سیلابی صورتحال کے باعث متعدد مکانات تباہ جبکہ کئی مکانات کو جزوی طور پرنقصان پہنچا، متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پرامدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت بورڈ کا اٹھارہواں اجلاس ،ماڈل قبرستانوں کی تعمیر کیلئے مقامات مختص کرنے کی منظوری چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت بورڈ کا اٹھارہواں اجلاس ،ماڈل قبرستانوں کی تعمیر کیلئے مقامات مختص کرنے کی منظوری پارلیمنٹ ہاوس کے کیفے ٹیریا میں صفائی کے ناقص انتظامات ،پی پی رکن وقار مہدی کی پلیٹ سے لال بیگ نکل آیا پچاسویں چیف آف دی آرمی اسٹاف پولو اور ٹینٹ پیگنگ چیمپئن شپ اختتام پذیر، پشاور کور کی جیت یمن کا یو اے ای کیساتھ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان، فوجیوں کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم وزیراعظم کی پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں نہیں ہو رہے؟ خواجہ آصف نے بتا دیا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ جمہوریت، انسانی وقار اور محروم طبقات کی طاقتور آواز تھیں،چیئرمین سینیٹCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔