Daily Mumtaz:
2026-07-24@04:37:11 GMT

ٹیکس وصولیاں، 31 دسمبر کو بینکس رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

ٹیکس وصولیاں، 31 دسمبر کو بینکس رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے

اسلام آباد(نیوزڈیسک)بینک اپنی متعلقہ برانچیں نِفٹ کے ذریعے سرکاری ٹرانزیکشن کی خصوصی کلیئرنگ تک کھلی رکھیں۔ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 31 دسمبر 2025ء کو سرکاری ڈیوٹی اور ٹیکس وصولی سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق بدھ 31 دسمبر 2025ء کو کمرشل بینکوں کی تمام شاخیں رات 10 بجے تک کھلی رہیں گی تاکہ ٹیکس دہندگان کاؤنٹرز پر سرکاری ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی بآسانی کر سکیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بینک اپنی متعلقہ برانچیں نِفٹ کے ذریعے سرکاری ٹرانزیکشنز کی خصوصی کلیئرنگ مکمل ہونے تک کھلی رکھیں گے تاکہ سال کے آخری روز مالی لین دین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

اسٹیٹ بینک نے مزید ہدایت کی ہے کہ آن لائن ادائیگیوں کے تمام چینلز جن میں انٹرنیٹ بینکاری، موبائل ایپس، اے ٹی ایمز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شامل ہیں، بلا تعطل دستیاب رکھے جائیں گے تاکہ صارفین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل