وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے بطور چیف آف بگٹی ٹرائبس دستاربندی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمیل اکبر بگٹی نے کہا کہ سرفراز بگٹی جس عہدے کی دستار بندی کر رہے ہیں، چیف آف بگٹی کے نام سے ایسا کوئی باضابطہ عہدہ موجود ہی نہیں ہے۔ اکبر بگٹی نے یہ عہدے ختم کئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی نے اپنی حیات کے دوران ہی چیف آف کلپر، چیف آف مسوری جیسے تمام عہدے منسوخ کرتے ہوئے صرف وڈیرہ سسٹم کو برقرار رکھا تھا۔ اس وقت بگٹی قوم میں چیف کے عہدے کی بنیاد اور ضرورت کیا تھی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ عہدے قدیم زمانے میں جنگی حالات کے تناظر میں قائم کیے گئے تھے۔ اس دور میں نواب یا سردار کے لیے یہ چیفس ایک طرح کا بیک اپ سسٹم ہوتے تھے، تاکہ اگر نواب یا سردار کسی جنگ کے دوران بیمار یا وفات پا جائیں، تو قیادت کا تسلسل برقرار رہے۔ یہ تمام عہدے خالصتاً جنگی دور کی ضروریات کے تحت وجود میں آئے تھے۔ بعد ازاں وقت کے تقاضوں کے پیش نظر، نواب اکبر خان بگٹی نے سن 2003 اور 2004 کے دوران بگٹی قوم کے اندر موجود تمام ذیلی شاخوں کے چیفس کے عہدوں کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ بگٹی قوم کے اندر چھ بڑی ذیلی شاخیں رہی ہیں، جن میں مسوری، کلپر، شمبانی، پیروزانی اور چندرازئی وغیرہ شامل ہیں۔ ان شاخوں کے اپنے اپنے چیفس ہوا کرتے تھے، مگر نواب اکبر خان بگٹی نے اس نظام کو ختم کرتے ہوئے چیف آف کلپر اور چیف آف مسوری جیسے تمام عہدے منسوخ کر دئیے تھے۔ البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ وڈیرہ سسٹم برقرار رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے تناظر میں یہ بات کھل کر کہنی چاہیے کہ سرفراز بگٹی اس وقت جس عہدے کی دستار بندی کر رہے ہیں، چیف آف بگٹی کے نام سے ایسا کوئی باضابطہ عہدہ موجود ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دراصل مسوری شاخ کے وڈیروں کا عہدہ تھا، جس پر ان کے چچازاد بھائی کا حق بنتا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حقدار کو یہ عہدہ سنبھالنے نہیں دیا گیا اور خود اس کی جگہ لے لی گئی۔ یہ طرز عمل نہ صرف قابل افسوس ہے بلکہ بگٹی روایات، اقدار اور قبائلی اصولوں کے بھی منافی ہے، جو واقعی ایک شرمناک مثال ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اکبر بگٹی نے نواب اکبر بگٹی کے چیف آف نے کہا

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے