Al Qamar Online:
2026-07-24@01:36:32 GMT

ایم آر ڈی تحریک کے کارکن آج بھی بے روزگاری کا شکار

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

ایم آر ڈی تحریک کے کارکن آج بھی بے روزگاری کا شکار

تحریکِ بحالیٔ جمہوریت (ایم آر ڈی) کے دوران جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینکڑوں جیالے آج بھی بے روزگاری اور شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کارکنوں کی قربانیوں کا عملی اعتراف نہ ہونا مایوسی اور محرومی کے احساس کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

1983ء کی ایم آر ڈی تحریک میں سندھ بھر سے ہزاروں سیاسی کارکنوں نے آمریت کے خلاف آواز بلند کی، جنہوں نے گرفتاریوں، قید و بند کی صعوبتوں، تشدد اور کوڑوں کا سامنا کیا، جبکہ متعدد کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ اس تاریخی جدوجہد کے باوجود آج ان میں سے بڑی تعداد روزگار، علاج معالجے اور بنیادی معاشی سہولیات سے محروم نظر آتی ہے۔

متاثرہ جیالوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں، مگر جب جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں تو انہی کارکنوں کو نظرانداز کر دیا گیا جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔

ان کا شکوہ ہے کہ مختلف ادوار میں سرکاری ملازمتیں اور مراعات میرٹ کے بجائے سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہوتی رہیں، جبکہ نظریاتی اور جدوجہد کرنے والے کارکن مسلسل محرومی کا شکار رہے۔

جیالوں کے مطابق اس طرزِ عمل کے نتیجے میں آج کئی گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور وہ کارکن جو کبھی جمہوریت کے لیے سینہ سپر رہے، اب بڑھاپے میں شدید مالی دباؤ اور بے بسی کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ریاست اور متعلقہ سیاسی قیادت ان قربانیوں کا اعتراف کرے اور ایم آر ڈی کے کارکنوں کے لیے روزگار، علاج اور فلاحی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیاں محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہ رہ جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایم آر ڈی کے لیے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ