یمن میں سعودی اتحاد کی ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں پر حملے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
یمن میں جاری کشیدہ صورتِ حال کے دوران سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی فورسز کی ایک تازہ کارروائی کی ویڈیو سامنے آ گئی.
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیوز اُس وقت کی ہیں جب سعودی اتحادی فورسز نے ہتھیاروں کی ترسیل کرنے والی فوجی گاڑیوں کا ڈرون کیمرے سے تعاقب کیا اور پھر نشانہ بھی بنایا۔
سعودی سربراہی میں اتحادی فوج نے یہ فضائی کارروائی مشرقی یمن کی اہم بندرگاہ مکلا میں کی گئی جہاں مبینہ طور اتارا جانے والا اسلحہ متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ جنوبی یمن کی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کے لیے لایا گیا تھا جو یمن سے علیحدہ ایک خود مختار ریاست کے قیام کے حامی ہیں۔
سعودی اتحاد فورسز کی جانب سے جاری کی گئی ڈرون فوٹیج میں بندرگاہ پر گاڑیوں اور عسکری سامان کی ان لوڈنگ واضح طور پر دکھائی گئی ہے۔
علاوہ ازیں ایک اور ویڈیو میں سعودی اتحادی فورسز کو ان ہتھیاروں کو فضائی حملے میں نشانہ بناکر تباہ کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔
اتحادی فورسز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب دو بحری جہاز 27 اور 28 دسمبر 2025 کو فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر بغیر اجازت مکلا پہنچے۔
ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق ان جہازوں نے اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے کوئی باضابطہ منظوری حاصل نہیں کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اسلحہ اور فوجی گاڑیاں اتارنے سے قبل جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز بھی بند کر دیے گئے جس سے ان کے مشن کو مزید مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا کہ اسلحہ کی یہ کھیپ حضرموت اور المہرہ کے صوبوں میں بدامنی کو بڑھانے کے لیے لائی گئی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے منافی ہے بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 (2015) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
ان کے بقول یمن کی پریزیڈنشل لیڈرشپ کونسل کے چیئرمین کی باضابطہ درخواست پر سعودی اتحاد کی فضائیہ نے انتہائی محدود مگر درست کارروائی کرتے ہوئے اسلحہ اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے یمن کے معاملے پر سعودی عرب کے حالیہ بیانات کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کردیا۔
متحدہ عرب امارات نے کہا کہ جہاز میں اسلحہ نہیں تھا بلکہ جو بھی سامان تھا وہ یمن میں مقیم اماراتی فوج کے لیے تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سعودی اتحاد
پڑھیں:
25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
سٹی 42: 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگیا ۔
صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر دیگر مقامی قائدین اور کارکنان کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک پہنچ گئے ۔ مینار پاکستان، صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا جلسے کی اجازت دینے پر وزیراعلی مریم نواز کے مشکور ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے ہمیں بتایا کہ اجازت دے دی گئی ہے۔جلسے کی تاحال زبانی اجازت دی گئی ہے تحریری اجازت ابھی نہیں دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو پروان چڑھایا ہے۔آج 23 جولائی کو آئے ہیں ساری رات یہیں ہیں۔جلسے کے دوران صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک کاٹیں گے۔
25 جولائی کو جلسہ 8 بجے شروع ہو گا۔بلاول بھٹو وڈیو لنک سے خطاب کریں گے۔راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضی قمر زمان کائرہ و دیگر قائدین خطاب کریں گے۔