ایرانی حملے کے 6 ماہ بعد وائزمین انسٹیٹوٹ کی پہلی تصویر تہران ٹائمز نے شائع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
سخت پابندی کے باؤجود تہران ٹائمز نے وائزمین انسٹیٹوٹ کی حال ہی لی گئی ایک واضح تصویر حاصل کی جو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ تصویر واضح، اعلیٰ معیار کی ہے اور انہیں زمین پر موجود ایک شخص نے کھینچا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سخت ترین سنسر شپ اور پابندیوں کے باؤجود تہران ٹائمز نے اسرائیل کے وائز مین انسٹی ٹیوٹ کی ایک ایسی تصویر شائع کی ہے جسے حال ہی میں لی گئی تھی۔ ایرانی حملے میں تباہ ہونے والے وائزمین انسٹیٹیوٹ کی چھ ماہ بعد لی گئی پہلی تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادارہ اب بھی ناقابل استعمال ہے اور اس کی مرمت اور بحالی کا کام جاری ہے۔ ایران کے حملوں کے بعد کی صورتحال کی تصاویر لینے اور شائع کرنے پر اسرائیل نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، یہ پابندی 2024ء اور 2025ء میں ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کیے گئے تینوں آپریشنز کے دوران عوام اور پریس دونوں پر لاگو تھی۔ مزید برآں، جنگ کے دوران ایران نے جن مقامات کو نشانہ بنایا ان میں سے بہت سے اب بھی عوام کے لیے بند ہیں۔ ایران کے وایزمین انسٹی ٹیوٹ پر حملے سے اس کی 65 عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور چار کو شدید نقصان پہنچا۔
سخت پابندی کے باؤجود تہران ٹائمز نے وائزمین انسٹیٹوٹ کی حال ہی لی گئی ایک واضح تصویر حاصل کی جو پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ تصویر واضح، اعلیٰ معیار کی ہے اور انہیں زمین پر موجود ایک شخص نے کھینچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عبرانی میڈیا رپورٹس کا ایک حالیہ جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ خود اسرائیلی حکومت کے ذرائع ابلاغ بھی غیر یقینی کا شکار ہیں کہ ایران کی جانب سے اسرائیل کے انتہائی حساس فوجی اور سیکیورٹی مقامات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی دراندازی کو کیسے سنبھالا جائے۔ متعدد سابق اسرائیلی عہدیداروں اور فوجی شخصیات نے پوڈکاسٹروں اور یوٹیوب چینلوں کو بتایا ہے کہ اسرائیل کی اندرونی سیکیورٹی ایجنسی، شین بیٹ ایران کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 2025ء میں کم از کم 40 اسرائیلی شہریوں کو ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا
"چھوٹی رقم" کے عوض ایرانی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والے اسرائیلیوں کے بحران کے علاوہ، اسرائیل اس وقت اہم سائبر سیکیورٹی کمزوریوں سے بھی نمٹ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، فلسطین کی حامی ہیکر گروپ ہندالا (Handala) نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے چیف آف اسٹاف، تزچی براورمین کے موبائل فون کو ہیک کیا اور اس کی معلومات تک رسائی حاصل کی۔ اس سے قبل سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے فون میں بھی اسی طرح کی کامیاب دراندازی کی گئی تھی۔ اسرائیل میں ایرانی انٹیلی جنس آپریشنز سے واقف ایک ذریعے نے تہران ٹائمز کو بتایا کہ ایران اور ہندالا جیسے فلسطین کے حامی گروہوں کو جو ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوئی ہے، وہ اسرائیلی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تہران ٹائمز نے حال ہی لی گئی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔