بھارت کے مڈل آرڈر بیٹر شریاس ایر نیوزی لینڈ کے خلاف تین ایک روزہ میچز کی سیریز میں بھارتی ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 11 جنوری سے شروع ہونے والی سیریز کے لیے شریاس ایر کو بی سی سی آئی کی جانب سے کلیئرنس نہیں مل سکی۔ وہ بیٹنگ کے لیے تو فٹ ہیں لیکن وہ پورا وقت فیلڈنگ نہیں کر سکتے۔

رپورٹس کے مطابق انجری کے باعث مسل ماس کم ہونے کی وجہ سے ان کا تقریباً چھ کلو وزن کم ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

کولکتہ ٹیسٹ کی ’پِچ‘ سے متعلق آئی سی سی کا بڑا فیصلہ!

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اگر شریاس کی ریکوری پلان کے مطابق ہوئی تو وہ 3 اور 6 جنوری کو وجے ہزارے ٹرافی کے دو میچز میں ممبئی کی نمائندگی کر سکیں گے، بعد ازاں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ودودارا میں بھارتی ٹیم کے ساتھ جڑ جائیں گے۔

البتہ، بی سی سی آئی ذرائع نے بتایا کہ پیٹ کے آپریشن کے بعد شریاس ایر کی سیریز میں شمولیت کا دار و مدار 50 اوور کے گیم کے لیے ان کی جسمانی مضبوطی پر ہے۔

واضح رہے آسٹریلیا کے خلاف اکتوبر میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں بھارتی مڈل آرڈر کو اسپلین لیکریشن کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی