وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات، سرحدی علاقوں میں جاری آپریشنز پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی جس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو آگاہ کیا۔ کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اقدامات اور خوارجیوں کے خلاف جاری آپریشنز پر گفتگو بھی کی گئی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت اس ضمن میں ہر طرح سے سپورٹ کے لیے تیار ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج اور سہولت کاروں کا خاتمہ مشترکہ اقدامات سے کیا جا رہا ہے۔ خوارجیوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی تعاون ناگزیر ہے، گورنر خیبرپختونخوا
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے، فیصل کریم کنڈی
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر خیبرپختونخوا وزیر داخلہ محسن نقوی کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔