بھارتی اداکارہ کا کرکٹر سوریا کمار یادیو سے متعلق حیران کن انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بھارتی شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی اداکارہ خوشی مکھرجی نے انڈین کرکٹ ٹیم کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے کپتان سوریا کمار یادیو کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف کر کے مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی خاصی چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔خوشی مکھرجی نے ایک تقریب میں شرکت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ وہ اور سوریا کمار یادیو ماضی میں تعلقات میں رہ چکے ہیں۔
اداکارہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ کسی کرکٹر کو ڈیٹ کرنا چاہیں گی تو انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ انہیں افواہوں اور تعلقات میں پڑنا پسند نہیں، خوشی مکھرجی کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی کرکٹر کو ڈیٹ نہیں کرنا چاہتیں، حالانکہ ان کے مطابق کئی کرکٹرز ان سے رابطے میں رہے ہیں۔
View this post on Instagramانہوں نے مزید کہا کہ سوریا کمار یادیو انہیں کافی میسجز کیا کرتے تھے، تاہم اب ان کے درمیان زیادہ بات چیت نہیں ہوتی اور وہ کسی قسم کا تعلق بھی نہیں رکھنا چاہتیں۔
مزید پڑھیںسوریا کمار یادیو کو عمان کیخلاف میچ میں روہت شرما کی یاد کیوں آئی، ویڈیو وائرل
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے بارے میں پھیلنے والی افواہیں یا لنک اپس بالکل پسند نہیں اور وہ اس طرح کی خبروں سے دور رہنا چاہتی ہیں۔ خوشی مکھرجی کا یہ دعویٰ اس لیے بھی حیران کن قرار دیا جا رہا ہے کہ سوریا کمار یادیو نے اس حوالے سے کبھی کوئی بیان نہیں دیا۔
تاہم ان دعوؤں پر انڈین کرکٹر سوریا کمار یادیو کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوریا کمار یادیو خوشی مکھرجی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔