Jasarat News:
2026-07-24@03:46:11 GMT

صومالی لینڈ کا قضیہ!

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251231-03-4

 

گزشتہ دنوں اسرائیل نے صومالی لینڈ کی خود ساختہ حکومت کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا، برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں فوری تعاون کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ابراہام معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر طے پائے تھے۔ اسرائیلی بیان کے مطابق نیتن یاہو اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی نے باہمی تسلیم کے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ ابراہام معاہدوں میں شامل ہوگا، جسے انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ شراکت داریوں کے فروغ، باہمی خوشحالی میں اضافے اور مشرق وسطیٰ اور افریقا میں استحکام کے فروغ کے لیے پْرعزم ہے۔ دوسری جانب صومالیہ کی حکومت نے اسرائیل کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی قدم اور اپنی خودمختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔ صومالیہ کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صومالی لینڈ جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابل تقسیم اور ناقابل علٰیحدہ حصہ ہے، صومالیہ ایک خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ خلیج عدن میں ایک تزویراتی محل ِ وقوع کا حامل علاقہ ہے، اس کی آبادی لگ بھگ ساٹھ لاکھ ہے، یہ شمال مغربی صومالیہ میں واقع ہے جس نے 1991 سے اپنی خود مختاری کا اعلان کر رکھا ہے، اس کا اپنا آئین، کرنسی، نظام، پارلیمنٹ اور پرچم ہے، تاہم ابھی تک اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ سال صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایتھوپیا کو ساحل کی ایک پٹی بندرگا اور فوجی اڈے کے طور پر لیز پر دی گئی جس پر صومالی کی حکومت نے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل کے اس فیصلے پر صومالیہ حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا ہے، مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک تھے، اس کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ تھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی مذمت کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش شامل نہیں ہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش نے امریکی حکومت کے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر رکھے ہیں۔ پاکستانی دفتر ِ خارجہ نے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے نام نہاد علاقے ’’صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف برادر ملک صومالیہ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ عالمی برادری اس طرح کے اقدامات کو مسترد کرے اور خطے میں امن و استحکام کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے سے اسرائیل کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ اسرائیل ابراہام معاہدے کے تحت اپنے سفارتی تعلقات کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، خود بن یامین نیتن یاہو اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اہراہام معاہدے کی روح تھا۔ صومالیہ لینڈ اپنے جغرافیائی محل ِ وقوع کی وجہ سے اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے، بحیرہ احمر اور باب المندب کی وجہ سے یہ علاقہ عالمی تجارت کا اہم بحری راستہ ہے جس میں اسرائیل اپنی سلامتی اور دفاع کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام سے نہ صرف یہ کہ خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا بلکہ اس سے دیگر شورش زدہ علاقوں اور ملکوں میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے، واضح رہے کہ صومالی لینڈ کی بندرگاہ بربرہ بابْ المندب کے قریب ترین تجارتی و عسکری پوائنٹس میں شمار ہوتی ہے اور یہ محض ایک آبنائے نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان عالمی سپلائی چین اور نہر ِ سویز کی براہِ راست اقتصادی شہ رگ ہے، جس پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا حامل ہونا خطے میں کسی بھی اسٹرٹیجک طاقت کو غیر معمولی سیاسی، عسکری اور معاشی برتری دلا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا بھی مظہر ہے۔ مسلم ممالک کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے محض مذمتی بیان سے کام نہیں چل سکتا، اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بظاہر ایک سفارتی عمل محسوس ہورہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نئے بحران کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم کہ صومالی لینڈ صومالیہ کی اسرائیل کے نیتن یاہو کے مطابق کا کہنا کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف