data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-03-4
گزشتہ دنوں اسرائیل نے صومالی لینڈ کی خود ساختہ حکومت کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا، برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ کے ساتھ زراعت، صحت، ٹیکنالوجی اور معیشت کے شعبوں میں فوری تعاون کا خواہاں ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ابراہام معاہدوں کی روح کے مطابق ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام پر طے پائے تھے۔ اسرائیلی بیان کے مطابق نیتن یاہو اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی نے باہمی تسلیم کے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ ابراہام معاہدوں میں شامل ہوگا، جسے انہوں نے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ شراکت داریوں کے فروغ، باہمی خوشحالی میں اضافے اور مشرق وسطیٰ اور افریقا میں استحکام کے فروغ کے لیے پْرعزم ہے۔ دوسری جانب صومالیہ کی حکومت نے اسرائیل کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر قانونی قدم اور اپنی خودمختاری پر دانستہ حملہ قرار دیا ہے۔ صومالیہ کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ صومالی لینڈ جمہوریہ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابل تقسیم اور ناقابل علٰیحدہ حصہ ہے، صومالیہ ایک خودمختار ریاست ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ خلیج عدن میں ایک تزویراتی محل ِ وقوع کا حامل علاقہ ہے، اس کی آبادی لگ بھگ ساٹھ لاکھ ہے، یہ شمال مغربی صومالیہ میں واقع ہے جس نے 1991 سے اپنی خود مختاری کا اعلان کر رکھا ہے، اس کا اپنا آئین، کرنسی، نظام، پارلیمنٹ اور پرچم ہے، تاہم ابھی تک اسے کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ گزشتہ سال صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایتھوپیا کو ساحل کی ایک پٹی بندرگا اور فوجی اڈے کے طور پر لیز پر دی گئی جس پر صومالی کی حکومت نے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل کے اس فیصلے پر صومالیہ حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے پر پاکستان سمیت اسلامی ممالک نے مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کیا ہے، مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان شریک تھے، اس کے علاوہ ترکیہ، یمن، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا اور مالدیپ بھی مشترکہ اعلامیے کا حصہ تھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی مذمت کرنے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش شامل نہیں ہیں، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش نے امریکی حکومت کے معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کر رکھے ہیں۔ پاکستانی دفتر ِ خارجہ نے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے نام نہاد علاقے ’’صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف برادر ملک صومالیہ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ عالمی برادری اس طرح کے اقدامات کو مسترد کرے اور خطے میں امن و استحکام کی جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے سے اسرائیل کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ اسرائیل ابراہام معاہدے کے تحت اپنے سفارتی تعلقات کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے، خود بن یامین نیتن یاہو اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اہراہام معاہدے کی روح تھا۔ صومالیہ لینڈ اپنے جغرافیائی محل ِ وقوع کی وجہ سے اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے، بحیرہ احمر اور باب المندب کی وجہ سے یہ علاقہ عالمی تجارت کا اہم بحری راستہ ہے جس میں اسرائیل اپنی سلامتی اور دفاع کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام سے نہ صرف یہ کہ خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا بلکہ اس سے دیگر شورش زدہ علاقوں اور ملکوں میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے، واضح رہے کہ صومالی لینڈ کی بندرگاہ بربرہ بابْ المندب کے قریب ترین تجارتی و عسکری پوائنٹس میں شمار ہوتی ہے اور یہ محض ایک آبنائے نہیں بلکہ ایشیا اور یورپ کے درمیان عالمی سپلائی چین اور نہر ِ سویز کی براہِ راست اقتصادی شہ رگ ہے، جس پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کا حامل ہونا خطے میں کسی بھی اسٹرٹیجک طاقت کو غیر معمولی سیاسی، عسکری اور معاشی برتری دلا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا بھی مظہر ہے۔ مسلم ممالک کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے محض مذمتی بیان سے کام نہیں چل سکتا، اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بظاہر ایک سفارتی عمل محسوس ہورہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نئے بحران کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم کہ صومالی لینڈ صومالیہ کی اسرائیل کے نیتن یاہو کے مطابق کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔