Jasarat News:
2026-06-02@23:33:42 GMT

حدیث ِ نبوی کا امین رخصت ہو گیا

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251231-03-6

 

عمران احمد سلفی

ممتاز و جید عالم ِ دین، استاذ الاساتذہ، حافظ الحدیث، شیخ الحدیث جامعہ ستاریہ اسلامیہ الشیخ مولانا محمود احمد حسنؒ پندرہ دسمبر دو ہزار پچیس بروز پیر کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ شیخ محترم کے انتقال کی خبر نے پورے عالم ِ اسلام کو غم کی لہر میں ڈبو دیا، کیونکہ ’’ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہوتی ہے‘‘۔ یہ صرف ایک عالم کی جدائی نہیں، بلکہ حدیث ِ رسول کے ایک عظیم امین، ایک زندہ زنجیر ِ سند کا ٹوٹنا ہے جو براہِ راست محدثین ِ عظام سے جا ملتی تھی۔

مولاناؒ نے امام عبدالستار محدث دہلویؒ سے سند ِ فراغت حاصل کی اور صحاحِ ستہ کی کتابوں بالخصوص صحیح بخاری شریف کو سترہ مرتبہ مکمل ختم کرایا۔ وہ نہ صرف شیخ الحدیث بلکہ حافظ الحدیث بھی تھے، شیخ محترم کی یادداشت اور حفظ ِ احادیث کی قوت اس قدر تھی کہ طلبہ شیخ محترم کو’’بحر ِ حدیث‘‘ کہتے تھے۔ شیخ کی شفقت، فیضان اور علمی تربیت سے ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں علماء کرام نے استفادہ کیا۔ شیخ محترم کے شاگردوں کی کثیر تعداد ملک بھر میں بلکہ بیرونِ ملک بھی پھیلی ہوئی ہے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک میں ان کے شاگرد مساجد کے ائمہ، مدرسین اور دعوت کے میدان میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان میں جلیل القدر علماء نامور اہل ِ علم جیسے مولانا ابراہیم بھٹی، مولانا مفتی عبدالحنان سامرودی، مفتی انس مدنی، علامہ ڈاکر عامر عبداللہ محمدی، علامہ عبدالخالق آفریدی، رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مولانا شفیق پسروری، مفتی عبدالوکیل ناصر، مولانا ضیاء الحق بھٹی، مولانا جمیل اظہر وتھرا، مولانا شیخ معاذ بحرین، مولانا رانا خلیق پسوری، مولانا عبدالظیم حسن زئی، مولانا یحییٰ مجید، مولانا ابرہیم جونا گڑھی، مفتی صہیب شاہد، مولانا طفیل عاطف، مولانا محمد احمد نجیب، مولانا ابرہیم نوڑھیو اور دیگر اکابر علماء شامل ہیں جو آج بھی شیخ کی علمی میراث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

وہ محدثِ عصر طویل عرصے تک درسِ حدیث کا فریضہ انجام دیتے رہے، حتیٰ کہ شدید علالت کے باوجود طلبہ شیخ محترم کے گھر جا کر حدیث کا سبق حاصل کرتے اور شیخ محترم کی شفقت کی بارش سے مالا مال ہوتے رہے۔ یہ بحرِ علم صرف ایک محدث ہی نہیں بلکہ عالم ِ باعمل، متقی، پرہیزگار، زاہد، نیک اور صالح انسان تھے۔ شیخ کی زندگی نبی کریمؐ کی سنتوں کی زندہ و جاوید اور عملی تفسیر تھی ہر قدم پر سنت کی پیروی، ہر لمحے میں تقویٰ کی پاسداری، اور ہر بات میں اخلاص کی چمک۔ جامعہ ستاریہ اسلامیہ کراچی میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ کر انہوں نے نسل در نسل حدیث ِ نبوی کا نور منتقل کیا اور اہل ِ حدیث مکتب ِ فکر کی ترویج و اشاعت میں گراں قدر، ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دیں۔ شیخ محترم کا درس ایک ایسا چشمہ تھا جس سے فیضانِ حدیث کی نہریں بہتی رہیں، اور آج بھی شیخ کے شاگرد اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شیخ محترم کی نمازِ جنازہ پندرہ دسمبر بروز پیر بعد نمازِ عصر جامعہ ستاریہ اسلامیہ جامع مسجد امام ابن تیمیہ گلشن ِ اقبال کراچی میں ادا کی گئی۔ جنازہ نہایت روح پرور، پْرہیبت اور تاریخی تھا، جس میں مشائخ الحدیث، علماء کرام، اساتذہ، زعمائے شہر، تاجر برادری، خطباء، ائمہ مساجد، طلبہ، اہل ِ خانہ اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محدثِ عصر شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب نے اپنی علالت کے باوجود جنازے میں شرکت فرمائی، جو مولانا مرحوم کی علمی عظمت، مقام اور احترام کی روشن ترین دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ محترم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے، شیخ محترم کے درجات کو بلند سے بلندتر کرے، اور پسماندگان، شاگردوں اور اہل ِ خانہ کو صبر ِ جمیل عطا فرمائے۔ اللہ امت ِ مسلمہ کو شیخ محترم جیسے علماء ربانی، محدثین ِ کرام اور سنت کے امین مسلسل عطا فرماتا رہے جو دین کی خدمت کریں اور سنت کو زندہ و تابندہ رکھیں۔

 

عمران احمد سلفی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شیخ محترم کے شیخ محترم کی

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید