حدیث ِ نبوی کا امین رخصت ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-03-6
عمران احمد سلفی
ممتاز و جید عالم ِ دین، استاذ الاساتذہ، حافظ الحدیث، شیخ الحدیث جامعہ ستاریہ اسلامیہ الشیخ مولانا محمود احمد حسنؒ پندرہ دسمبر دو ہزار پچیس بروز پیر کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ شیخ محترم کے انتقال کی خبر نے پورے عالم ِ اسلام کو غم کی لہر میں ڈبو دیا، کیونکہ ’’ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت ہوتی ہے‘‘۔ یہ صرف ایک عالم کی جدائی نہیں، بلکہ حدیث ِ رسول کے ایک عظیم امین، ایک زندہ زنجیر ِ سند کا ٹوٹنا ہے جو براہِ راست محدثین ِ عظام سے جا ملتی تھی۔
مولاناؒ نے امام عبدالستار محدث دہلویؒ سے سند ِ فراغت حاصل کی اور صحاحِ ستہ کی کتابوں بالخصوص صحیح بخاری شریف کو سترہ مرتبہ مکمل ختم کرایا۔ وہ نہ صرف شیخ الحدیث بلکہ حافظ الحدیث بھی تھے، شیخ محترم کی یادداشت اور حفظ ِ احادیث کی قوت اس قدر تھی کہ طلبہ شیخ محترم کو’’بحر ِ حدیث‘‘ کہتے تھے۔ شیخ کی شفقت، فیضان اور علمی تربیت سے ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں علماء کرام نے استفادہ کیا۔ شیخ محترم کے شاگردوں کی کثیر تعداد ملک بھر میں بلکہ بیرونِ ملک بھی پھیلی ہوئی ہے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک میں ان کے شاگرد مساجد کے ائمہ، مدرسین اور دعوت کے میدان میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان میں جلیل القدر علماء نامور اہل ِ علم جیسے مولانا ابراہیم بھٹی، مولانا مفتی عبدالحنان سامرودی، مفتی انس مدنی، علامہ ڈاکر عامر عبداللہ محمدی، علامہ عبدالخالق آفریدی، رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مولانا شفیق پسروری، مفتی عبدالوکیل ناصر، مولانا ضیاء الحق بھٹی، مولانا جمیل اظہر وتھرا، مولانا شیخ معاذ بحرین، مولانا رانا خلیق پسوری، مولانا عبدالظیم حسن زئی، مولانا یحییٰ مجید، مولانا ابرہیم جونا گڑھی، مفتی صہیب شاہد، مولانا طفیل عاطف، مولانا محمد احمد نجیب، مولانا ابرہیم نوڑھیو اور دیگر اکابر علماء شامل ہیں جو آج بھی شیخ کی علمی میراث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
وہ محدثِ عصر طویل عرصے تک درسِ حدیث کا فریضہ انجام دیتے رہے، حتیٰ کہ شدید علالت کے باوجود طلبہ شیخ محترم کے گھر جا کر حدیث کا سبق حاصل کرتے اور شیخ محترم کی شفقت کی بارش سے مالا مال ہوتے رہے۔ یہ بحرِ علم صرف ایک محدث ہی نہیں بلکہ عالم ِ باعمل، متقی، پرہیزگار، زاہد، نیک اور صالح انسان تھے۔ شیخ کی زندگی نبی کریمؐ کی سنتوں کی زندہ و جاوید اور عملی تفسیر تھی ہر قدم پر سنت کی پیروی، ہر لمحے میں تقویٰ کی پاسداری، اور ہر بات میں اخلاص کی چمک۔ جامعہ ستاریہ اسلامیہ کراچی میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہ کر انہوں نے نسل در نسل حدیث ِ نبوی کا نور منتقل کیا اور اہل ِ حدیث مکتب ِ فکر کی ترویج و اشاعت میں گراں قدر، ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دیں۔ شیخ محترم کا درس ایک ایسا چشمہ تھا جس سے فیضانِ حدیث کی نہریں بہتی رہیں، اور آج بھی شیخ کے شاگرد اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شیخ محترم کی نمازِ جنازہ پندرہ دسمبر بروز پیر بعد نمازِ عصر جامعہ ستاریہ اسلامیہ جامع مسجد امام ابن تیمیہ گلشن ِ اقبال کراچی میں ادا کی گئی۔ جنازہ نہایت روح پرور، پْرہیبت اور تاریخی تھا، جس میں مشائخ الحدیث، علماء کرام، اساتذہ، زعمائے شہر، تاجر برادری، خطباء، ائمہ مساجد، طلبہ، اہل ِ خانہ اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محدثِ عصر شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب نے اپنی علالت کے باوجود جنازے میں شرکت فرمائی، جو مولانا مرحوم کی علمی عظمت، مقام اور احترام کی روشن ترین دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ محترم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے، شیخ محترم کے درجات کو بلند سے بلندتر کرے، اور پسماندگان، شاگردوں اور اہل ِ خانہ کو صبر ِ جمیل عطا فرمائے۔ اللہ امت ِ مسلمہ کو شیخ محترم جیسے علماء ربانی، محدثین ِ کرام اور سنت کے امین مسلسل عطا فرماتا رہے جو دین کی خدمت کریں اور سنت کو زندہ و تابندہ رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شیخ محترم کے شیخ محترم کی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔