شہید قاسم سلیمانی مزاحمت کا مجسم اور عملی نمونہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اگر ہم فلسطین، القدس کے کوچوں پر نظر دوڑائیں تو اس ہستی کی خوشبو وہاں رچی بسی ہے۔ اگر ہم حلب اور دمشق میں دیکھیں تو انکی مقدس خوشبو وہاں بھی محسوس ہوتی ہے۔ بغداد میں اور یمن میں بھی آج اگر کوئی مقاومت ہے، ظلم کے مقابلے میں مظلوم اور پا برہنہ لوگ بے یار و مددگار ہونے کے باوجود سب سے بڑی قوتوں کی ناک زمین پر رگڑ رہے ہیں تو اس میں بھی اس عظیم شخصیت کا ہاتھ تھا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید عدیل عباس
شہید جنرل قاسم سلیمانی مزاحمت کا مجسم اور عملی نمونہ تھے، دفاع مقدس کے محاذوں پر ان کی ثابت قدمی اور حکیمانہ موجودگی نے استعمار کی دھمکیوں اور سازشوں کی تیز لہروں کے مقابلے میں تن تنہا ایک مضبوط محاذ تعمیر کیا۔ شہید قاسم سلیمانی کی شناخت صرف داعش کا خاتمہ نہیں ہے، اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں تفکر اور استقامتِ دینی کے احیاء کا عَلَم ان کے ہاتھ میں تھا اور یہ صرف عراق کی بات نہیں ہے۔ اگر ہم لبنان کی گلیوں میں دیکھیں تو ان کی خوشبو آتی ہے، اگر ہم فلسطین، القدس کے کوچوں پر نظر دوڑائیں تو اس ہستی کی خوشبو وہاں رچی بسی ہے۔ اگر ہم حلب اور دمشق میں دیکھیں تو ان کی مقدس خوشبو وہاں بھی محسوس ہوتی ہے۔ بغداد میں اور یمن میں بھی آج اگر کوئی مقاومت ہے، ظلم کے مقابلے میں مظلوم اور پا برہنہ لوگ بے یار و مددگار ہونے کے باوجود سب سے بڑی قوتوں کی ناک زمین پر رگڑ رہے ہیں تو اس میں بھی اس عظیم شخصیت کا ہاتھ تھا۔ مزید احوال اس ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خوشبو وہاں میں بھی ا اگر ہم
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔