نئے سال کے جشن کی تیاری، مری میں دفعہ 144 کا نفاذ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
مری میں دفعہ 144 کا نافذ کردی گئی، اگلے دو روز مری مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہو گی، بیچلر ٹورسٹ مری مال روڈ کے سوا دیگر مقامات پر جا سکتے ہیں۔
ڈی پی او مری کے مطابق اقدام سیاح فیملیز کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب مری و گلیات میں متوقع برف باری پر محکمہ ہائی وے پنجاب نے الرٹ جاری کردیا، صوبائی وزیر ملک صہیب احمد بھرتھ نے محکمہ ہائی وے کو مکمل الرٹ رہنے، برف ہٹانے کے لیے مشینری ہمہ وقت فعال رکھنے اور شاہراہوں پر نمک کے بر وقت چھڑکاؤ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا ہے کہ مری میں 13 فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
29 ہزار سالٹ بیگز سالٹ اسٹور میں فراہم کردیے گئے، مختلف مقامات پر سالٹ کیمپس قائم کردیے گئے، مری میں دو مرکزی سالٹ کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
ملک صہیب احمد بھرتھ کا کہنا ہے کہ مری میں 13 فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جو سیاحوں اور شہریوں کو سہولت فراہم کریں گے۔ مری و گلیات کی شاہراہوں پر آمد و رفت ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔