ایرانی وزیر خارجہ کا دوٹوک موقف پر مبنی پالیسی مضمون
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر ’’فیصلہ کن فتح‘‘ کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کمزور اور بازدار بنا دیا گیا ہے، لیکن ہماری وسیع اسٹریٹجک گہرائی، ایک ایسا ملک جو رقبے میں مغربی یورپ کے برابر اور آبادی میں اسرائیل سے دس گنا بڑا ہے، اس بات کا باعث بنی کہ ہمارے بیشتر صوبے اسرائیلی جارحیت سے محفوظ رہے۔ اس کے برعکس، اسرائیل کے تمام شہریوں نے ہماری فوجی طاقت کا تجربہ کیا۔ اب ’’ناقابلِ شکست‘‘ ہونے کا وہ بیانیہ، جو اسرائیلی اساطیری مشینری کا محور تھا، زمین بوس ہو چکا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے گرد گھڑا گیا مصنوعی بحران اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح تل ابیب میں لکھی گئی کہانیاں اور اسرائیل کے اتحادیوں کے ذریعے پھیلائی گئی روایات نے غیر ضروری محاذ آرائی کو ہوا دی۔ تحریر: سید عباس عراقچی
(وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران)
صدر ٹرمپ، آپ کبھی ایران کو شکست نہیں دیں گے۔ اگرچہ بنیامین نیتن یاہو اس سال کے آغاز میں امریکہ کو ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں گھسیٹنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن اس کی قیمت اسرائیل کو غیر معمولی اور بھاری نقصان کی صورت میں چکانا پڑی۔ یہ منظر کہ نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کر رہا ہے کہ اسے اس دلدل سے نکالا جائے جس میں وہ خود پھنس چکا ہے، اس بات کا باعث بنا ہے کہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی تعداد میں لوگ کھل کر یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ اسرائیل اب ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک اضافی بوجھ ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے عرب اتحادی بھی اسی نتیجے پر پہنچے جس پر ہم ایرانی ہمیشہ زور دیتے آئے ہیں۔
یہ حقیقت بالکل نئے تعلقات کی راہ ہموار کرتی ہے جو ہمارے خطے کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ امریکی حکومت اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے، یا تو وہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے اور اپنی سیاسی ساکھ کے ذریعے اسرائیل کے لیے بدستور کھلے چیک جاری کرتی رہے، یا پھر ایک بنیادی اور مثبت تبدیلی کا حصہ بنے۔ کئی دہائیوں سے ہمارے خطے کے بارے میں مغربی پالیسی زیادہ تر ان افسانوں پر مبنی رہی ہے جن کی جڑیں اسرائیل میں ہیں۔ خرداد کے مہینے کی جنگ کئی حوالوں سے فیصلہ کن تھی، جن میں ایک یہ بھی تھا کہ اس نے مغرب کے لیے یہ واضح کر دیا کہ اساطیر سازی کو حکمتِ عملی سمجھنے کی قیمت کتنی بھاری پڑتی ہے۔
اسرائیل اور اس کے نیابتی عناصر ’’فیصلہ کن فتح‘‘ کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کمزور اور بازدار بنا دیا گیا ہے، لیکن ہماری وسیع اسٹریٹجک گہرائی، ایک ایسا ملک جو رقبے میں مغربی یورپ کے برابر اور آبادی میں اسرائیل سے دس گنا بڑا ہے، اس بات کا باعث بنی کہ ہمارے بیشتر صوبے اسرائیلی جارحیت سے محفوظ رہے۔ اس کے برعکس، اسرائیل کے تمام شہریوں نے ہماری فوجی طاقت کا تجربہ کیا۔ اب ’’ناقابلِ شکست‘‘ ہونے کا وہ بیانیہ، جو اسرائیلی اساطیری مشینری کا محور تھا، زمین بوس ہو چکا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے گرد گھڑا گیا مصنوعی بحران اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح تل ابیب میں لکھی گئی کہانیاں اور اسرائیل کے اتحادیوں کے ذریعے پھیلائی گئی روایات نے غیر ضروری محاذ آرائی کو ہوا دی۔
کئی دہائیوں سے ہم ایرانی اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ہم جوہری ہتھیاروں کے خواہاں نہیں ہیں۔ یہ کوئی وقتی یا حربی دعویٰ نہیں بلکہ مذہبی، اخلاقی اور سلامتی کے تقاضوں پر مبنی ایک اسٹریٹجک نظریہ ہے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں امریکی حکومت کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا گیا کہ ایران تباہی کے دہانے پر ہے، 2015 کا جوہری معاہدہ ہماری شہ رگ ہے اور اس سے نکلنا ہمیں فوری طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا۔ انہی افسانوں نے واشنگٹن کو مؤثر سفارتی فریم ورک ترک کرنے اور ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی اپنانے پر اکسایا، جس کا نتیجہ صرف ’’زیادہ سے زیادہ مزاحمت‘‘ کی صورت میں نکلا۔
امریکہ میں، خاص طور پر وہ لوگ جو اندرونِ ملک امریکہ کی تعمیرِ نو پر توجہ دینا چاہتے ہیں، اب کھل کر اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگے ہیں جو پہلے ایک ممنوع موضوع تھی۔ اسرائیلی بیانیوں کو بلاچون و چرا قبول کرنے سے امریکی وسائل ختم ہوئے، اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور امریکہ ایسے تنازعات میں الجھ گیا جو اس کے مفاد میں نہیں تھے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران تل ابیب کی حکومت نے غزہ میں دسیوں ہزار بے گناہ فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور لبنان، شام، ایران، یمن حتیٰ کہ قطر پر بھی حملے کیے ہیں۔ خطے کا تقریباً ہر ملک خطرے میں رہا ہے۔ کوئی بھی ذمہ دار شخص ان جارحیتوں کو دفاعی ردعمل نہیں کہہ سکتا۔
حالیہ پیش رفت میں ایک اور امید افزا پہلو بھی ہے۔ ہمارے خطے میں اسرائیل کے مشترکہ خطرے کو قابو میں کرنے کے لیے ایک نئی رفتار۔ اس نے نام نہاد ابراہیم معاہدوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے اور نئی علاقائی شراکت داریوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مشترکہ دوستوں میں اس بات کا ایک غیر معمولی رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ بات چیت کو آسان بنائیں اور کسی بھی طے پانے والے معاہدے کے مکمل اور قابلِ تصدیق نفاذ کی ضمانت دیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا امر ہے۔ ایران امریکہ جوہری مذاکرات کے دوران اسرائیل کی جانب سے سفارت کاری پر حملے کے باوجود، ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی کسی معاہدے کے لیے اب بھی پرعزم ہے۔
اس مقصد کا حصول اس بات سے مشروط ہے کہ امریکہ یہ تسلیم کرے کہ مذاکرات، شرائط مسلط کر کے ہتھیار ڈلوانے کا نام نہیں ہیں۔ ہماری قوم بخوبی جانتی ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جنہوں نے ان پر حملہ کیا ہو، اور وہ امریکہ کے ساتھ تعامل کے تلخ تجربات دیکھ چکی ہے۔ اگر صدر ٹرمپ واقعی ان کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنے اندرونی حامیوں سے کیے گئے وعدوں پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو انہیں وہ کام کرنا ہوگا جو ان کے کسی پیش رو نے نہیں کیا۔ امن اور سفارت کاری کے ذریعے ایک غیر ضروری بحران کا خاتمہ۔ پہلا قدم یہ ہے کہ ایرانی قوم سے احترام کی زبان میں، بغیر کسی شرط یا تبصرے کے، بات کی جائے۔ ایران کبھی امریکہ کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں رہا۔
خرداد کے مہینے میں ہمارے کمانڈروں کی جانب سے برتی گئی ضبط و تحمل، جس کے باعث خطے میں امریکی فوجی اڈے محفوظ رہے، اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔ اس تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے لامحدود تصور کیا جائے۔ دنیا کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ ایرانی اپنے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ وہ حقوق ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تمام دستخط کنندگان کو حاصل ہیں، جن میں پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کے تمام پہلوؤں تک رسائی شامل ہے۔ ہم ایرانی ایک منصفانہ معاہدے کے حصول کے لیے سنجیدہ مذاکرات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ایسا معاہدہ قابلِ تصدیق اور عملی طور پر پابندیوں کے خاتمے پر مشتمل ہونا چاہیے۔ ہمارے خطے میں ہونے والی تبدیلیاں مفاہمت پر عمل درآمد کو بالکل نئے انداز میں ممکن بنا سکتی ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو وہ راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں جس پر اس سے پہلے کوئی نہیں چلا، ایک مختصر مگر اہم موقع کی کھڑکی کھل چکی ہے۔ قسمت بہادروں کا ساتھ دیتی ہے، اور ایک شیطانی چکر کو توڑنے کے لیے محض اسے جاری رکھنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرات درکار ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کے امریکہ کے اس بات کا کہ ایران کے ذریعے نہیں ہیں کے تمام ہیں کہ اور اس کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔