جسٹس عالیہ نیلم تعیناتی، سال میں ایک لاکھ 66 ہزار فیصلے، زیرالتواء مقدمات میں ریکارڈ کمی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی تعیناتی کے بعد عدالتی نظام کو مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ریکارڈ تعداد میں مقدمات کے فیصلے ہوئے بلکہ زیرِ التواء مقدمات میں بھی غیر معمولی کمی واقع ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 15 دسمبر 2025ء تک لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ان فیصلوں کے باعث عدالت عالیہ لاہور میں زیرِ التواء مقدمات کی مجموعی تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 69 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے، جو سائلین کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ عدالتی اصلاحات اور مؤثر کیس مینجمنٹ کے باعث عدالتوں پر عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال 15 دسمبر تک لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد نئے مقدمات دائر کیے گئے، تاہم اس کے باوجود فیصلوں کی رفتار میں کمی نہیں آنے دی گئی۔ پرنسپل سیٹ لاہور پر بھی ریکارڈ کارکردگی دیکھنے میں آئی، جہاں 15 دسمبر تک 89 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔ اس وقت پرنسپل سیٹ پر زیرِ التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر صرف ایک لاکھ کے قریب رہ گئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران پرنسپل سیٹ پر 75 ہزار سے زائد نئے مقدمات دائر ہوئے۔ لاہور ہائیکورٹ کے علاقائی بنچز نے بھی شاندار عدالتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے عدالتی نگرانی، کیسز کی بروقت سماعت اور انتظامی اصلاحات نے انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز اور بہتر بنایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ ایک لاکھ کیے گئے
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز