کوئٹہ؛ کسٹمز کی کارروائی، 36 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا برآمد
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کوئٹہ:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے ادارے کسٹمز نے انسداد اسمگلنگ کی کارروائی کرتے ہوئے 36 کروڑ 80 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیا ضبط کر لیں۔
ایف بی آر کے مطابق کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے بلوچستان پولیس اور فرنٹیئر کور (نارتھ) بلوچستان کی معاونت سے دو کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران اسمگل شدہ سامان کی بڑی کھیپیں ضبط کر لی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ضبط کی گئی اشیا میں غیر ملکی سگریٹس برانڈ بھی شامل ہے، اس کے علاوہ بھارتی گٹکا، ٹائرز، چھالیہ اور سگریٹ کے کاغذ بھی برآمد کیے گئے ہیں اور برآمد شدہ اشیا کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 36 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔
ایف بی آر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں یہ کارروائیاں اسمگلنگ کی روک تھام اور قومی معیشت کے تحفظ کےلیے کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کی مسلسل کوششوں کی عکاس ہیں اور ان کارروائیوں کی کامیابی میں بلوچستان پولیس اور فرنٹیئر کور کی مؤثر رابطہ کاری اور بروقت تعاون نے کلیدی کردار ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایف بی آر اسمگلنگ، غیر قانونی تجارت اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔