18ماہ میں 150 سے زائد بڑے یونٹس بند ہوچکے،خادم حسین
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
لاہور: فاﺅنڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان ا سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہونے کی وجہ سے گزشتہ 18 ماہ کے دوران 150 سے زائد بڑے یونٹس بند ہوچکے ہیں ۔
باقی بچ جانے والے یونٹس میں سے زیادہ تر صرف 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کررہے ہیں جو تشویش کا باعث ہے۔
انتہائی سخت مانیٹری ،مالیاتی پالیسیاں، خطے کے دیگر حریفوں کے مقابلے میں توانائی کے زائد نرخ اور صنعت و زراعت کے لیے ریلیف کا خاتمہ یونٹس کے بند ہونے کا بڑا سبب ہیں۔
ان خیالات کا اظہارانہوںنے ملاقات کے لیے آنے والے صنعتکاروںکے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صنعتوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
خادم حسین نے کہا کہ حکومتی ذمہ داران کی جانب سے پالیسیوں کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا ،حکومت کی جانب سے کیے گئے دعوﺅں کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کے انجن کے طور پر کام کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوںنے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ 2019 سے آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو سخت پیشگی شرائط میں نرمی کرنے یا انہیں مرحلہ وار ختم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جس کی بنیادی وجہ ماضی میں اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کرنے میں ناکامی ہے۔
ان شرائط میں وہ ڈسکاﺅنٹ ریٹ بھی شامل ہے جو 10.
5 فیصد تک نیچے آنے کے باوجود علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اب بھی تقریباً دوگنا ہے۔
انہوںنے کہا کہ صنعتکاروں کو درپیش مشکلات کے حل اور ترقی کے لیے بیورو کریسی کی بجائے حقیقی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کیا جائے تاکہ کوئی راستہ نکل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔