Al Qamar Online:
2026-06-03@01:14:14 GMT

18ماہ میں 150 سے زائد بڑے یونٹس بند ہوچکے،خادم حسین

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

18ماہ میں 150 سے زائد بڑے یونٹس بند ہوچکے،خادم حسین

 لاہور: فاﺅنڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان ا سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہونے کی وجہ سے گزشتہ 18 ماہ کے دوران 150 سے زائد بڑے یونٹس بند ہوچکے ہیں ۔

 باقی بچ جانے والے یونٹس میں سے زیادہ تر صرف 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کررہے ہیں جو تشویش کا باعث ہے۔

انتہائی سخت مانیٹری ،مالیاتی پالیسیاں، خطے کے دیگر حریفوں کے مقابلے میں توانائی کے زائد نرخ اور صنعت و زراعت کے لیے ریلیف کا خاتمہ یونٹس کے بند ہونے کا بڑا سبب ہیں۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے ملاقات کے لیے آنے والے صنعتکاروںکے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صنعتوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

خادم حسین نے کہا کہ حکومتی ذمہ داران کی جانب سے پالیسیوں کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن ان پر عملدرآمد نظر نہیں آتا ،حکومت کی جانب سے کیے گئے دعوﺅں کے باوجود کاروباری شعبہ ترقی کے انجن کے طور پر کام کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوںنے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ 2019 سے آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو سخت پیشگی شرائط میں نرمی کرنے یا انہیں مرحلہ وار ختم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی جس کی بنیادی وجہ ماضی میں اصلاحات پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کرنے میں ناکامی ہے۔

ان شرائط میں وہ ڈسکاﺅنٹ ریٹ بھی شامل ہے جو 10.

5 فیصد تک نیچے آنے کے باوجود علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اب بھی تقریباً دوگنا ہے۔

انہوںنے کہا کہ صنعتکاروں کو درپیش مشکلات کے حل اور ترقی کے لیے بیورو کریسی کی بجائے حقیقی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کیا جائے تاکہ کوئی راستہ نکل سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان