data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251231-08-27
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کو عبرت ناک شکست سے پوری قوم خوش ہے صدر زرداری سندھ میں ڈاکوراج اورقبائلی دہشت گردی سے بھی عوام کو نجات دلائیں جس کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج، تعلیم اورکاروبار تباہ ہوچکے ہیں،عوام کیسے بے فکر ہوکر سوجائیں دن ہو یا رات وہ غیر محفوظ ہیں۔کیا کوئی سردار ،برادری اورڈاکو ریاست سے زیادہ طاقتور ہوسکتے ہیں ؟حکومت چاہے تو ان کی ناک میں نکیل ڈال سکتی ہے۔ صرف شکارپور میں رواں سال 200سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا گیا ،اغوابرائے تاوان، بھتا خوری اورلوٹ مارکے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔حکومت قبائلی تصادم ،ڈاکوراج کے خاتمے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ سندھ میں گزشتہ 17سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مگر کراچی سے کشمور سندھ بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ آج کے جدید دور میں بھی سندھ کے عوام پینے کے صاف پانی صحت ،تعلیم اورامن جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔جماعت اسلامی کل یکم جنوری سے بدل دونظام کو سنواردوسندھ کو کے سلوگن کے تحت ڈاکوراج،قبائلی دہشت گردی ، کرپشن ،سندھ کے قدرتی وسائل کی لوٹ مارکے خلاف اورعوامی حقوق کے لیے رابطہ عوام مہم شروع کرے گی۔نظام وقیادت کی تبدیلی سے ہی ملک وقوم کی تقدیر کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اس لیے جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں عوامی بیداری کے لیے بدل دو نظام کی تحریک چلارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھرکے مقامی ہال میں منعقدہ ضلعی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں لاڑکانہ وسکھرڈویژن کے ہرسطح کے ذمے داران شریک تھے۔صوبائی امیرنے کہاکہ کرپشن اوروسائل کی لوٹ مارکے لیے سندھ کو منظم طریقے سے بدامنی کی آگ میں جھونکا جا رہا ہے۔ قبائلی تنازعات کے ذریعے خونریزی اور ڈاکوراج سے سندھ کے امن، محبت،مہمان نوازی اور بھائی چارے والے تشخص کومسخ کیا جارہا ہے۔جماعت اسلامی رابطہ عوام مہم کے ذریعے سندھ کے ہرشہر اورگلی محلے تک عوامی بیداری کا پیغام پہنچائے گی۔انہوں نے کہاکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن کو سبوتاژ اورسندھ کو بنجربنانے کی سازش ہے۔ پاکستان بھارت کی اس پاکستان وانسانیت دشمنی کو عالمی فورم پربے نقاب کرے۔اس موقع پر صوبائی نائب امراپروفیسر نظام الدین میمن،حافظ نصراللہ چنا، قیم صوبہ محمد یوسف ،نائب قیمین علامہ حزب اللہ جکھرو، عبدالقدوس احمدا نی اورامدادللہ بجارانی بھی موجود تھے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی سندھ کے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان