نتین یاہو، لبنانیوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے، حزب الله
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
عراقی میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں محمود قماطی کا کہنا تھا کہ اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر ہمارے خلاف حملے کر رہا ہے اور جنگبندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی مدد سے بیروت پر دباؤ ڈال کر ہمیں غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" كی پولیٹیكل كونسل كے ڈپٹی ڈائریکٹر "محمود قماطی" نے خبردار کیا كہ اسرائیل کی جانب سے اپنے وعدوں کو پورا کئے بغیر، سیز فائر ایگریمنٹ کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونا خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نیتن یاہو، ہر طریقے و حربے سے لبنانی عوام کو داخلی انتشار میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بدقسمتی سے لبنان میں موجود کچھ عناصر بھی اس کی مدد کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہم لبنانی عوام کو بکھرنے نہیں دیں گے۔ کیونکہ لبنانی عوام، صیہونی قبضے کے خلاف جدوجہد اور اتحاد کی خواہاں ہے۔ محمود قماطی نے ان خیالات کا اظہار عراقی میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج لبنان میں ایک بہت بڑی و خطرناک غلطی ہو رہی ہے۔ بعض عناصر جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
حالانکہ اسرائیل نے پہلے مرحلے میں کئے گئے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا۔ صیہونی فوج بدستور مقبوضہ علاقوں میں موجود ہے اور قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں نہیں آئی۔ محمود قماطی نے کہا کہ جو لوگ ان شرائط اور لبنانی عوام کے قومی مطالبات پورے ہونے سے پہلے معاہدے کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کی بات کرتے ہیں، وہ دراصل جنوبی لبنان کو نظرانداز کر کے اسے دشمن کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیز فائر کو 1 سال گزر چکا ہے، جس کا مقصد لبنان کے خلاف صیہونی دراندازی کو روکنا تھا لیکن زمینی حقائق بالکل برعکس ہیں، اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر ہمارے خلاف حملے کر رہا ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی مدد سے بیروت پر دباؤ ڈال کر ہمیں غیر مسلح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لبنانی عوام مرحلے میں نے کہا کہ کر رہا ہے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔