ترکیہ میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 21 صوبوں میں ایک ساتھ کریک ڈاؤن، سیکڑوں افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ANKARA:
ترکیہ میں سکیورٹی فورسز نے نئے سال کے موقع پر دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں، جن کے دوران داعش سے تعلق رکھنے والے 357 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
ترک وزیر داخلہ کے مطابق 21 صوبوں میں بیک وقت انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کیے گئے۔
یہ کارروائیاں صوبائی پولیس، انسدادِ دہشت گردی یونٹس اور انٹیلی جنس اداروں کے باہمی تعاون سے انجام دی گئیں، جن کے نتیجے میں ایک ہی دن میں سیکڑوں مشتبہ عناصر کو حراست میں لیا گیا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ترکیہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو ملک میں قدم جمانے یا سرگرم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس کے مطابق شہر میں 110 ایسے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جو نئے سال کے موقع پر استنبول میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اسی طرح انقرہ کے چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس نے داعش سے وابستہ 17 مشتبہ افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، جن میں 11 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
ترک سکیورٹی حکام نے بتایا کہ چند روز قبل بھی استنبول میں کیے گئے چھاپوں کے دوران 100 سے زائد مشتبہ داعش ارکان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا، جبکہ گرفتار افراد نئے سال پر حملوں کی تیاری میں مصروف تھے۔
ترک حکام کے مطابق یہ کامیاب کارروائیاں سکیورٹی اداروں کی بروقت حکمت عملی کا نتیجہ ہیں، جنہوں نے ملک کو ایک بڑے ممکنہ سانحے سے محفوظ رکھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔