فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے خلاف سرکاری گواہ نہیں بن رہے، وکیل کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے، ان کے وکیل نے واضح کیا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں اور خبریں بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید نے آموں کے بہانے مجھے منشیات میں پھنسانے کی سازش کی تھی، جاوید لطیف کا دعویٰ
سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ان کے موکل کا عمران خان کے خلاف کسی مقدمے میں سرکاری گواہ بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعوے صرف قیاس آرائی اور بے بنیاد ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض وفاقی وزرا اور سینیٹر فیصل واوڈا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سابق جاسوس سربراہ سابق وزیراعظم کے خلاف بیان دیں گے۔ تاہم وکیل کے مطابق فیض حمید کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
سینیئر صحافی نے مزید کہا کہ یہ قیاس آرائیاں خاص طور پر 9 مئی 2023 کے تشدد سے متعلق عمران خان اور فیض حمید کے مبینہ تعلقات پر مبنی حکومتی نریٹو کا حصہ ہیں، جس میں فوجی تنصیبات پر حملے بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے سیاسی مشیر رہے، عطا تارڑ کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق، حالیہ فیض حمید کی 14 سالہ سزا کے بعد یہ افواہیں زور پکڑیں، لیکن فوج کے میڈیا ونگ (آئی ایس پی آر) نے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا کہ عمران اور فیض کے درمیان کوئی تعلق موجود تھا۔
اس کے علاوہ حکومتی وزرا نے بھی عمران فیض تعلق کے بارے میں براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور معاملہ آئی ایس پی آر کی جانب موڑ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانی پی ٹی آئی جنرل فیض حمید سرکاری گواہ عمران خان کورٹ مارشل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی جنرل فیض حمید سرکاری گواہ کورٹ مارشل سرکاری گواہ فیض حمید کے خلاف
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔