سہیل آفریدی کو اسلام آباد تک کوئی نہیں پہنچنے دےگا، رانا ثنااللہ کا اسٹریٹ موومنٹ کی تیاریوں پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کی پوری کوشش کررہی ہے، لیکن سہیل آفریدی کو اسلام آباد تک کوئی نہیں پہنچنے دے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی سب کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پا رہی، ان کے پاس صلاحیت ہی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: ’اسٹریٹ موومنٹ کے لیے تیاری کریں‘، عمران خان کی سزا کے بعد احتجاج کی کال
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی تھوڑی بہت صلاحیت بروئے کار لائے گی تو سختی سے روکا جائےگا، شاید وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پشاور سے چلنا ہے مشکل ہو جائے، حکومت اور ایجنسیاں غافل نہیں بیٹھی ۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ موجودہ صورت حال میں حکومت کا ہوم ورک مکمل ہے جبکہ پی ٹی آئی اپنا ہوم ورک کررہی ہے، پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ سیاست ٹیبل پر بیٹھ کر ہوتی ہے، احتجاج کرنے کو سیاست نہیں کہا جا سکتا۔
مشیر وزیراعظم نے کہاکہ عمران خان ہم سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے تھے، وہ آج بھی اسٹریٹ موومنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو لوگ عمران خان سے ملاقات کے لیے جائیں گے انہیں اجازت نہیں ملنی۔
مزید پڑھیں: پارٹی اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرے، جو بھی ہوگاذمہ دار حکومت ہو گی، عمران خان
اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر اسپیکر سے بات ہوئی تھی، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اب سنا ہے کوئی فیصلہ ہوگیا ہے، فیصلے کی کاپی جیسے ہی اسپیکر کو ملے گی وہ اس پر فیصلہ کر دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹریٹ موومنٹ پی ٹی آئی رانا ثنااللہ عمران خان مشیر وزیراعظم ہوم ورک وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹ موومنٹ پی ٹی ا ئی رانا ثنااللہ ہوم ورک وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز انہوں نے کہاکہ اسٹریٹ موومنٹ رانا ثنااللہ پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔