یکم جنوری سے پیٹرول سستا ہونے کا امکان، عوام کیلئے خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یکم جنوری 2026 سے صارفین کو پیٹرول پمپوں پر بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 60 پیسے فی لیٹر تک کمی متوقع ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 59 پیسے فی لیٹر کمی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کا تیل 8 روپے 92 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل 6 روپے 62 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔
تجویز منظور ہونے کی صورت میں پیٹرول کی قیمت موجودہ 263 روپے 45 پیسے سے کم ہو کر تقریباً 252 روپے 85 پیسے فی لیٹر ہو جائے گی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 265 روپے 65 پیسے سے گھٹ کر 257 روپے 06 پیسے فی لیٹر تک آنے کا امکان ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت موجودہ 180 روپے 54 پیسے کے مقابلے میں کم ہو کر 171 روپے 62 پیسے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ حتمی اعلان وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر کا امکان کی قیمت
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔