طویل المدتی معاشی پالیسیوں کے بغیر استحکام ممکن نہیں، ڈاکٹر حسین محی الدین
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
تاجر رہنمائوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ ٹیکنو کریٹس اور ماہرین معاشیات پر مشتمل خود مختار کونسل وقت کی اہم ضرورت ہے، معیشت کے تحفظ کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے، سیاست سے بالاتر ہو کر معیشت کی ترقی پر توجہ دی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل، ماہر معاشیات پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے عوامی تاجر اتحاد کے رہنمائوں سے ملاقات کے دوران ’’پاکستان کے معاشی بحران کا حل‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سنگین معاشی حالات سے نکلنے کیلئے محض عارضی اقدامات کافی نہیں بلکہ ایک جامع، غیر سیاسی اور قومی سطح پر معاشی حکمت عملی کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی اکانومی کو تحفظ دینے اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے فی الفور ایک خودمختار قومی معاشی کونسل قائم کی جائے۔ اس کونسل میں تمام سٹیک ہولڈز، ٹیکنوکریٹس، ممتاز ماہرین معاشیات، صنعت و تجارت، زراعت،بینکاری، تعلیم، آئی ٹی سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور دیانتدار افراد کو شامل کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اس مجوزہ کونسل کا سیاست یا سیاسی مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا واحد مقصد ملکی معیشت کی بہتری، استحکام اور ترقی ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور سیاسی کشمکش نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اس لئے ایک ایسی مستقل اور بااختیار کونسل وقت کی اہم ضرورت ہے جو طویل المدتی معاشی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی معاشی کونسل کو ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافے، درآمدات کے متبادل، مقامی وسائل، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مہنگائی کے کنٹرول اور سرمایہ کاری کے فروغ جیسے بنیادی امور پر عملی اور قابل عمل سفارشات مرتب کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو معاشی خودمختاری کی طرف گامزن کرنا ہے تو ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں اجتماعی اور سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ قومی معاشی کونسل کا قیام اسی سمت ایک اہم اور ناگزیر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین عوامی تاجر اتحاد حاجی محمد اسحاق، شہزاد خان، محمد راشد چودھری، ثاقب بھٹی، جنید وارثی، شبیر احمد و دیگر تاجر رہنما موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔