اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس 1 لاکھ 75 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو بھی تیزی کا سلسلہ جاری رہا اور سال کے آخری کاروباری سیشن کے آغاز میں ہی 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 1 لاکھ 75 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔
صبح 9 بج کر 55 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 601.39 پوائنٹس یعنی 0.34 فیصد اضافے کے ساتھ 175,074.18 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔
PSX Opened Positive ????
☀️ KSE 100 opened positive by +518.
— Investify Pakistan (@investifypk) December 31, 2025
حبکو، ماری، پول، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، او جی ڈی سی، پاکستان اسٹیٹ آئل، حبیب بینک، میزان بینک اور مسلم کمرشل بینک سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر ڈالنے والے شیئرز سبز زون میں رہے۔
ادھر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے گزشتہ روز بتایا کہ مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال 25-2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.15 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:
گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان برقرار رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس مضبوط اختتام کے ساتھ نئی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
بینچ مارک انڈیکس 576.45 پوائنٹس اضافے کے بعد 174,473 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر سال کے آخری کاروباری دن ایشیائی منڈیاں مجموعی طور پر محتاط رہیں، سرمایہ کاروں نے ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو بڑی حد تک نظرانداز کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت سے متعلق چپ بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی، جبکہ ڈالر کی کمزور کارکردگی کے باعث یورو اور پاؤنڈ مستحکم دکھائی دیے۔
جاپان کی منڈیاں ہفتے کے باقی دنوں کے لیے بند ہیں، جبکہ جمعرات کو نئے سال کی تعطیل کے باعث بیشتر عالمی مارکیٹس بند رہیں گی، جس کے نتیجے میں کاروباری حجم کم اور اتار چڑھاؤ محدود رہنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں:
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل وسیع انڈیکس بدھ کو 0.17 فیصد کم رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی فیڈرل ریزرو کے دسمبر اجلاس کی کارروائی پر غور کیا، جس میں شرحِ سود سے متعلق پالیسی سازوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہوئے۔
یہ انڈیکس سال بھر میں 27 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جو 2017 کے بعد سب سے تیز رفتار اضافہ ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت سے وابستہ اسٹاکس اور چِپ میکرز میں زبردست تیزی ہے۔
چین کا بلیو چِپ انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ سال بھر میں 18 فیصد اضافے کی راہ پر ہے، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.7 فیصد گر گیا۔
تاہم مجموعی طور پر 2025 میں 28 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں نے تجارتی جنگ کے خدشات کو نظرانداز کردیا ہے۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس دنیا کی بہترین کارکردگی دکھانے والی بڑی اسٹاک مارکیٹ ثابت ہوا، جس نے سال بھر میں 76 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جس میں ایس کے ہائنکس اور سام سنگ کے شیئرز کا نمایاں کردار رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احسن اقبال اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بینچ مارک پاکستان پاکستان اسٹیٹ آئل پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ حبکو حبیب بینک کے ایس ای ماری مسلم کمرشل بینک میزان بینک وزیر منصوبہ بندی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان پاکستان اسٹیٹ ا ئل پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ حبکو کے ایس ای اسٹاک ایکسچینج میں
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔