پنجاب حکومت نے جنگلی حیات کے تحفظ اور ایکو ٹورزم کے فروغ کے لیے مجموعی طور پر 9.4 ارب روپے کے دو بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منصوبے جہلم، اٹک، چکوال، میانوالی، چھانگا مانگا، لال سہانرہ، بہاولپور، صحرائے چولستان اور ڈی جی خان میں کوہِ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں نافذ ہوں گے۔
پہلا منصوبہ پنجاب وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ہیبی ٹیٹ ریسٹوریشن پروگرام ہے جس کی لاگت 3.

9 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ اس کے تحت جنگلی حیات کی کم ہوتی آبادی کو مستحکم کرنے، مساکن کی بحالی اور مقامی کمیونٹی کو تحفظ کے عمل میں شامل کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ سالٹ رینج، کالا چٹا رینج اور کوہِ سلیمان میں کمیونٹی بیسڈ کنزرویسیز قائم کی جائیں گی۔ اڑیال، چنکارہ اور سلیمان مارخور کی افزائش نسل کے لیے بریڈنگ اور ری انٹروڈکشن پروگرامز نافذ کیے جائیں گے۔ اسی منصوبے میں تیتر، پاڑہ، سانبھر، چیتل ہرن، نیل گائے، کالا ہرن اور چنکارہ کی افزائش نسل اور دوبارہ آبادکاری بھی شامل ہے۔
دوسرا منصوبہ ایکو ٹورزم سالٹ رینج و لال سہانرا نیشنل پارکس کے لیے ہے، جس کی مجموعی لاگت 5.5 ارب روپے ہے۔ اس کے تحت ایکو لاجز، سیاحتی سہولیات، فیملی پکنک ایریاز، ہائیکنگ ٹریکس، ویو پوائنٹس اور دیگر ماحول دوست سیاحتی سرگرمیوں کے انفراسٹرکچر کو فروغ دیا جائے گا۔ موٹروے ایم ٹو پر سالٹ رینج کے مقام پر ایک نیا انٹرچینج بھی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ سیاحتی رسائی بہتر بنائی جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب وائلڈ لائف مبین الہی کے مطابق یہ منصوبے پہلی بار صوبے میں جنگلی حیات، سیاحت اور مقامی کمیونٹی کی شراکت کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت جوڑ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ماڈل سے نہ صرف جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو تحفظ ملے گا بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق ایکو ٹورزم منصوبہ جون 2027 تک مکمل ہو جائے گا، جبکہ قدرتی مساکن کی بحالی اور جنگلی جانوروں کی آبادکاری کا منصوبہ دو سال کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ مقامی کمیونٹی نے ان اقدامات کو علاقے کی پائیدار ترقی اور سیاحت کے فروغ کے لیے مثبت اقدام قرار دیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جنگلی حیات ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان

فائل فوٹو

سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں تیز ہوائیں، طوفان اور بارش ہوئی ہے جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوگئی۔

خیبرپختونخوا میں مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 

سندھ کے علاقے تھرپارکر میں بارش، سکھر میں ژالہ باری، لاڑکانہ، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، نیو سعیدآباد، شکارپور اور کندھ کوٹ میں مٹی کا طوفان آیا ہے۔

اسلام آباد، لاہور، جہلم، سرگودھا، گجرات، رحیم یار خان، چنیوٹ سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔

تیز ہوا کے باعث لوئر کرم میں بجلی کی مین لائن کا ٹاور گر گیا، پاراچنار اور اس کے ملحقہ علاقوں اور پاک افغان سرحدی دیہات کی بجلی بند ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار