تاریخی اقدامات، پنجاب بھر میں ایکو فرینڈلی ٹرانسپورٹ کا انقلاب
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
راؤ دلشاد:محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ پنجاب نے سال 2025 میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار جدید، ماحول دوست اور عوام دوست ٹرانسپورٹ نظام کے قیام کے لیے تاریخی اقدامات کیے, وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے تمام اضلاع کو ایکو فرینڈلی ٹرانسپورٹ کا تحفہ دیتے ہوئے الیکٹرک بسوں کے جامع منصوبے کا آغاز کیا۔
حکام کے مطابق 2025 میں پنجاب کے تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 1100 الیکٹرک بسیں چلانے کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت فروری 2025 میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر لاہور میں 27 الیکٹرک بسیں سڑکوں پر لائی گئیں، جن کی کامیابی کے بعد منصوبے کو پورے صوبے تک وسعت دی گئی۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی
پہلے مرحلے میں ستمبر 2025 میں چین سے 200 الیکٹرک بسوں کی ڈیلیوری مکمل ہونے کے بعد 9 اضلاع میں الیکٹرک بس سروسز کا آغاز کیا گیا۔ ان اضلاع میں میانوالی، ساہیوال، سرگودھا، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، وزیرآباد اور پاکپتن شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے میں راولپنڈی، بہاولنگر، جہلم، جھنگ سمیت دیگر اضلاع میں مزید 200 الیکٹرک بسوں کا افتتاح کیا جا چکا ہے، جبکہ فروری 2026 تک مزید 700 الیکٹرک بسیں پنجاب کے تمام باقی اضلاع میں چلائی جائیں گی۔
سینیئرز کی عزت ۔۔۔ کامیابی کی ضمانت۔۔۔ نرگس اور ریما کا کیا موازنہ
حکام کا کہنا ہے کہ جدید سہولیات سے آراستہ الیکٹرک بسوں میں سفر کا کرایہ صرف 20 روپے رکھا گیا ہے، تاکہ یہ سہولت عام شہریوں کی پہنچ میں رہے۔ لاہور میں پہلا اسٹیٹ آف دی آرٹ گرین بس ڈپو بھی تعمیر کر لیا گیا ہے، جو ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کی ایک اہم مثال ہے۔
2025 میں میٹرو بس اور الیکٹرک بسوں سمیت تمام ماس ٹرانزٹ سروسز کے کرایوں کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا۔ اسی سال اسٹوڈنٹس کو بلا سود بائیکس فراہمی سکیم کے تحت 20 ہزار سے زائد بائیکس ڈیلیور کی گئیں، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر یتیم طلبہ و طالبات کو بائیک سکیم کے تحت مفت بائیکس فراہم کی گئیں۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بہنیں اڈیالہ نہ پہنچ سکیں
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ کے نئے منصوبوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ فیصل آباد میں اورنج لائن اور ریڈ لائن منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ریڈ لائن بس سروس 23.
2025 ؛ لاہور ہائیکورٹ میں 1 لاکھ 66 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ای ٹیکسی سکیم بھی لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں شروع کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور سے آغاز کرتے ہوئے 1100 الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ اس سکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے، جو 5 سال کی آسان اقساط پر بلا سود فراہم کی جائیں گی۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق مری ریل لنک ٹورسٹ گلاس ٹرین کے تکنیکی معاملات پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 2025 میں دھواں چھوڑنے اور سموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے دوران ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا۔ خلاف ورزی پر کروڑوں روپے کے جرمانے عائد کیے گئے اور ہزاروں گاڑیاں بند کی گئیں، جبکہ معیار پر پورا اترنے والی 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
لاہور نہر بھل صفائی کیلئے بند
سال 2025 میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے پنجاب فرسٹ الیکٹرک وہیکل ایکسپو کا بھی کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے محکمے کے افسران کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے سال میں عوام کو مزید خوشخبریاں سنائی جائیں گی۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بسوں کو تحصیل کی سطح تک چلانے کا عزم رکھتے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق صوبے بھر میں جدید ترین، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کو مزید وسعت دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔