بھارتی سیاست اور حکومت میں ہندو قوم پرستی کیسے غالب آئی؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس ایک خفیہ اور نیم عسکری تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، جس کا بنیادی نظریہ ہندو قوم پرستی ہے۔ اخبار کے مطابق 1925ء سے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپس فوجی طرز پر قائم کیے گئے، جہاں مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم نظریاتی تربیت دی جاتی رہی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سو سالہ تاریخ پر ایک تفصیلی اور تنقیدی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں اس تنظیم کے نظریات، سیاسی اثر و رسوخ اور بھارت کی موجودہ سیاست پر اس کے کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس ایک خفیہ اور نیم عسکری تنظیم کے طور پر قائم ہوئی، جس کا بنیادی نظریہ ہندو قوم پرستی ہے۔ اخبار کے مطابق 1925ء سے آر ایس ایس کے تربیتی کیمپس فوجی طرز پر قائم کیے گئے، جہاں مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم نظریاتی تربیت دی جاتی رہی۔ نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کا مقصد بھارت کو ایک ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ تنظیم کے بعض نظریات یورپ میں سامنے آنے والی نسل پرستانہ سوچ سے متاثر رہے ہیں۔
اخبار کے مطابق 1948ء میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر شدید تنقید ہوئی، تاہم 1975ء کی ایمرجنسی کی مخالفت کے دوران تنظیم کو اپنی شبیہ بہتر بنانے کا موقع ملا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مذہبی سیاست کو منظم انداز میں فروغ دیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق بی جے پی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014ء کے بعد آر ایس ایس کی نظریاتی حکمتِ عملی ریاستی پالیسیوں میں زیادہ نمایاں ہو گئی۔ اخبار کے تجزیے کے مطابق مودی حکومت کے دور میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، رام مندر کی تعمیر اور اقلیتوں سے متعلق پالیسیاں آر ایس ایس کے دیرینہ ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کی حیثیت بتدریج کمزور ہوئی ہے اور وہ خود کو دوسرے درجے کے شہری محسوس کر رہی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے درجنوں ذیلی تنظیموں کے ذریعے سیاست، تعلیم، میڈیا، عدلیہ اور سکیورٹی اداروں میں اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس کی سو سالہ حکمتِ عملی کا مرکزی نکتہ ہندو بالادستی کا قیام رہا ہے، جس کے اثرات آج بھارتی سیاست اور سماج میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیویارک ٹائمز آر ایس ایس رپورٹ میں گیا ہے کہ تنظیم کے اخبار کے کے مطابق
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔