فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ٹکٹوں کے لیے جاری رینڈم سلیکشن ڈرا کے نصف مرحلے تک پہنچتے ہی شائقین کی دلچسپی نے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔
اب تک دنیا کے 200 سے زائد ممالک سے 150 ملین سے زائد ٹکٹوں کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جو دستیاب ٹکٹوں کی تعداد سے 30 گنا زیادہ ہیں۔ یہ طلب تاریخ کے تمام ورلڈ کپ مقابلوں میں شریک شائقین کی مجموعی تعداد سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ ورلڈ کپ 2026 دنیا کا سب سے بڑا اور جامع فٹبال ایونٹ ہوگا، جو عالمی اتحاد اور کھیل سے محبت کا شاندار مظہر ثابت ہوگا۔
یہ میگا ایونٹ 11 جون سے 19 جولائی 2026 تک کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کے 16 میزبان شہروں میں کھیلا جائے گا، جس میں 48 ٹیمیں 104 میچز میں حصہ لیں گی۔
ٹکٹوں کے لیے موجودہ مرحلہ 13 جنوری 2026 تک کھلا رہے گا، اور درخواست دینے کے وقت سے کامیابی کے امکانات متاثر نہیں ہوں گے۔ فیفا نے شائقین کے لیے 60 امریکی ڈالر کی سپورٹر انٹری ٹکٹ کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے۔
ناکام درخواست دہندگان کو آئندہ مراحل میں دوبارہ موقع دیا جائے گا، جبکہ پریمیم اور سفری پیکجز بھی دستیاب ہیں، تاکہ ہر شائق اپنی پسند کے مطابق ایونٹ کا لطف اٹھا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ورلڈ کپ

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر