اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے، کیونکہ عوام انکے ساتھ نہیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ عوام الناس تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کلین سوئپ کریگی۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کروانے کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور حکومتی اراکین کیجانب سے سکیورٹی خدشات، سرد موسم اور بلدیاتی نظام کی مدت کے قلت کے موقف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ متعلقہ فائیلیںارباب لیاقت علی ہزارہ پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ سٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ اس سے قبل مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ سٹی کے صدر اور قومی اسمبلی امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سال 2013ء میں مذہنی سیاسی جماعت سے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا۔ جہاں مختلف عہدوں پر انہوں نے کام کیا۔ اس سے قبل وہ مختلف سماجی خدمات سرانجام دینے میں مصروف تھے۔ وہ کوئٹہ کے رہائشی ہیں اور ابتدائی تعلیم بھی بلوچستان کے دارالحکومت سے ہی حاصل کی۔ انہوں نے اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھتے ہوئے بیوٹمز یونیورسٹی سے مائننگ انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اسکے بعد برطانیہ کی یونیورسٹی آف کینٹبری سے تعلیم کے شعبہ میں ماسٹرز کی ایک اور ڈگری حاصل کی۔ اس وقت وہ تعلیم کے شعبہ میں کام کرنے میں مصروف ہیں اور کیمبرج سے تصدیق شدہ ٹیچر ٹرینر اور آیلٹس کی تیاری کرانے والے استاد ہیں۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ارباب لیاقت علی ہزارہ نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے، کیونکہ عوام انکے ساتھ نہیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ عوام الناس تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کلین سوئپ کرے گی۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کروانے کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور حکومتی اراکین کیجانب سے سکیورٹی خدشات، سرد موسم اور بلدیاتی نظام کی مدت کے قلت کے موقف کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔(ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہ فرار اختیار کر رہی ہے بلدیاتی انتخابات پی ٹی آئی انہوں نے کہ عوام کے ساتھ

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور