دو مزید آسٹریلوی کھلاڑیوں کا آئی پی ایل میں شرکت سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
آئی پی ایل کے مینز ایڈیشن سے بڑے غیر ملکی کھلاڑیوں کے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ویمنز ایڈیشن سے بھی نامور خواتین کھلاڑیوں نے علیحدگی اختیار کرلی۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کی نامور آل راؤنڈرز ایلیس پیری اور اینابل سدرلینڈ نے ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں کھلاڑیوں کی عدم دستیابی کے بعد متبادل کھلاڑیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ایلیس پیری کو ایک بار پھر دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کی نمائندگی کرنا تھی جبکہ اینابل سدرلینڈ دہلی کیپٹلز کے لیے میدان میں اترنے والی تھیں۔
سدرلینڈ کی جگہ آسٹریلوی لیگ اسپنر الانا کنگ کو شامل کیا گیا ہے، جو گزشتہ سیزن میں یو پی واریئرز کے لیے ایک میچ کھیل چکی ہیں۔
پیری کی جگہ بھارت کی آل راؤنڈر سیالی ستگھرے کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جو اب تک تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیل چکی ہیں اور مقامی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔
مزید برآں، امریکا کی بائیں ہاتھ کی فاسٹ بولر تارا نورس بھی بین الاقوامی مصروفیات کے باعث ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔
ان کی جگہ آسٹریلیا کی نوجوان آل راؤنڈر چارلی ناٹ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا کے فاف ڈوپلیسی، انگلینڈ کے معین علی اور آسٹریلیا کے گلین میکسویل سمیت کئی مشہور کھلاڑیوں نے آئی پی ایل سے دوری اختیار کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔