پانچوں ہائیکورٹس میں 40ایڈیشنل ججوں کی مستقلی، جوڈیشل کمیشن کے پانچ اجلاس 12تا 15جنوری کے درمیان طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 31 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)پانچوں ہائی کورٹس میں 40 ایڈیشنل ججوں کی مستقلی کے لیے جوڈیشل کمیشن کے پانچ اجلاس چیف جسٹس کی صدارت میں 12 تا 15 جنوری طلب کرلیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحیی آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے 5 اجلاس 12جنوری سے لے کر 15جنوری تک سپریم کورٹ اسلام آباد کے کمیٹی روم میں منعقد ہوں گے ۔ اجلاسوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3، بلوچستان ہائیکورٹ کے 2، سندھ ہائیکورٹ کے 12، پشاور ہائیکورٹ کے 10 جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے 13ایڈیشنل ججوں کی مستقلی پر غور ہوگا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ایڈیشنل ججز کی مستقلی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بارہ جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس کی مستقلی پر غور ہوگا۔
بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کیلئے بھی 12 جنوری کو جوڈیشل کمیشن اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں جسٹس ایوب خان اور جسٹس نجم الدین مینگل کی مستقلی پر غور ہوگا۔سندھ ہائیکورٹ کے 12 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کیلئے جوڈیشل کمیشن اجلاس کا 13 جنوری کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ، جسٹس ریاض علی سحر، جسٹس محمد حسن اکبر، جسٹس خالد حسین شہانی، جسٹس عبدالحامد بھرگی، جسٹس سید فیاض الحسن شاہ، جسٹس جان علی جونیجو، جسٹس ناصر احمد بھنبوڑو کی مستقلی پر غور ہوگا۔ اجلاس میں جسٹس علی حیدر ادا، جسٹس عثمان علی اور جسٹس محمد جعفر رضا کی مستقلی پر بھی غور ہوگا۔ اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ آئینی بنچز کی مدت میں توسیع پر بھی غور کیا جائے گا۔
پشاور ہائیکورٹ کے دس ایڈیشنل ججز کی مستقلی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 14 جنوری کو سپریم کورٹ میں ہوگا۔ اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض اور جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس صبغت اللہ، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر، جسٹس اورنگزیب اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی پر غور ہوگا۔لاہور ہائیکورٹ کے 13 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 15 جنوری کو ہوگا۔ اجلاس میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس راجہ غضنفر علی، جسٹس تنویر احمد شیخ، جسٹس طارق محمود باجوہ اور جسٹس عبہر گل کی مستقلی پر غور ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرانتالیسویں سینئر منیجمنٹ کورس کیلئے گریڈ 19کے افسران کو 19جنوری 2026 کو طلب کرلیا گیا انتالیسویں سینئر منیجمنٹ کورس کیلئے گریڈ 19کے افسران کو 19جنوری 2026 کو طلب کرلیا گیا عمران خان سزا پوری کریں، مذاکرات میں رہائی پر بات نہیں ہوگی، گورنر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ڈھاکا: اسمبلی ایاز صادق سے بھارتی وزیرخارجہ کی ملاقات بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ازبکستان کا جی ڈی پی پہلی بار 145بلین ڈالر سے تجاوز کرگیا پاک چین مذاکرات، وزیر خارجہ اسحاق ڈار آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن کے ججوں کی مستقلی

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج