اکاؤنٹس کمیٹی،این ایچ اے پراربوں کی ریکوری نہ کرنیکا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں این ایچ اے پر26.4 ارب روپے ٹول ٹیکس واجبات، اوورلوڈڈ ٹرکوں سے 16 ارب کی ریکوری نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس معین عامر پیرزادہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وزارتِ مواصلات کے مالی سال 2023-24 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے پندرہ آڈٹ اعتراضات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ٹول ٹیکس واجبات پر سیکرٹری این ایچ اے نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ این ایل سی، ایف ڈبلیو او اور نجی کنٹریکٹرز کے سامنے رکھا جا چکا ہے.
کمیٹی رکن بلال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے نمائندے اجلاس میں موجود کیوں نہیں اور یہ واضح کیا جائے کہ جواب دہی کس سے لی جائے۔
مزید پڑھیںپی ٹی آئی دور میں مالی بے ضابطگیاں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 300 ملین کی ریکوری کرلی
حنا ربانی کھر نے کہا کہ معاملہ قانون پر عملدرآمد کا ہے اور یہ تشویشناک ہے کہ جو کمپنیاں معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتیں، انہی کے ساتھ دوبارہ معاہدے کر لیے جاتے ہیں۔
شاہدہ بیگم نے ٹول ٹیکس میں مسلسل اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔آڈیٹر جنرل نے وضاحت کی کہ پیش کیے گئے تمام اعدادوشمار این ایچ اے کے فراہم کردہ ہیں اور آڈٹ حکام کا اپنا کوئی ڈیٹا شامل نہیں۔
پی اے سی نے معاملے کو مزید جانچ کے لیے مؤخر کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ واجبات کی وصولی اور قانونی تقاضوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایچ اے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ