نیوزی لینڈ میں 2026 کی آمد، آکلینڈ میں نئے سال کا شاندار استقبال
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں سال 2026 کا آغاز ہو گیا، جہاں نئے سال کی آمد پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔
آکلینڈ کے معروف اسکائی ٹاور پر ہونے والی رنگا رنگ آتش بازی نے شہر کے آسمان کو روشنیوں سے منور کر دیا، جبکہ اس تاریخی لمحے کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد اسکائی ٹاور کے اطراف جمع رہی۔
دنیا بھر میں نئے سال کی آمد کے موقع پر رنگا رنگ تقریبات کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، آکلینڈ کے بعد آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جانا ہے، جہاں روایتی انداز میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ متوقع ہے۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں تاریخی بگ بین کے قریب آتش بازی کا سامان پہنچا دیا گیا ہے، جبکہ لندن آئی کے اطراف آسمان کو روشنیوں سے جگمگانے کے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ادھر چین کے دارالحکومت بیجنگ میں نیو ایئر ٹی پارٹی کے موقع پر روایتی اوپیرا پیش کیا گیا۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ سال 2026 کے دوران مزید فعال میکرو پالیسیوں کو آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ معاشی استحکام اور ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
امریکا کے شہر نیویارک میں سال نو کے موقع پر ہزاروں افراد کی آمد متوقع ہے، جہاں ٹائمز اسکوائر میں روشنیوں سے منور شیشے کی دیو قامت گیند کو گرائے جانے کا روایتی منظر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات میں برج خلیفہ پر نئے سال کی آمد کے ساتھ رنگ و نور کی برسات ہوگی، جس کے لیے خصوصی لائٹ اور فائر ورک شو کا اہتمام کیا گیا ہے۔
قطر، ہانگ کانگ اور تائیوان سمیت مختلف ممالک میں بھی سال نو کو بھرپور اور جوش و خروش کے ساتھ خوش آمدید کہنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ عالمی سطح پر نئے سال کی آخری بڑی تقریب امریکی شہر نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں منعقد ہوگی، جہاں روایت کے مطابق روشنیوں سے سجی دیو قامت گیند کو بلندی سے نیچے لایا جائے گا اور دنیا نئے سال میں داخل ہو جائے گی۔
دنیا بھر میں نئے سال کی آمد مختلف رنگوں اور روایات کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جہاں ہر خطہ اپنی ثقافت کے مطابق امیدوں اور امنگوں کے ساتھ 2026 کا استقبال کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نئے سال کی آمد میں نئے سال روشنیوں سے کے ساتھ
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔
فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔
اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟
جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔
ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغازماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔
اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔
زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔
اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔
’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھیاوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا
سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔
دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکاناتسپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔