وزیرِ داخلہ کا پولیس فاؤنڈیشن کا دورہ، ملازمین کی فلاح کیلئے اہم اعلانات
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کا دورہ کیا اور اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل پولیس فاؤنڈیشن علی ناصر رضوی نے ادارے کی مجموعی کارکردگی اور پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت اے ایس پیز کو ہر سال آسان اور کم اقساط پر پلاٹس فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان بھر سے ہر سال دس انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اے ایس آئیز کو سکالرشپ پر پولیس سے متعلق کورسز کے لیے بیرونِ ملک بھجوایا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پندرہ کانسٹیبلز کے بیٹے یا بیٹیاں جو پاکستان کی بہترین جامعات میں داخلہ حاصل کریں گے، ان کے تعلیمی اخراجات نیشنل پولیس فاؤنڈیشن برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ ہر سال پانچ ایس پی اور ایس ایس پی رینک کے افسران کو مصنوعی ذہانت میں ڈگری کے لیے سکالرشپ پر بیرونِ ملک بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے وسائل میں مزید اضافے کے لیے جامع پلان طلب کرتے ہوئے ادارے کو خسارے سے نکال کر سرپلس میں لانے پر پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک انتہائی فعال اور متحرک ادارہ بنانا ہے۔
اجلاس میں نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے تمام ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔