data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ شہر کی خوبصورتی اور ہریالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور حکومت کا ہدف دارالحکومت کو ایک جدید اور سرسبز شہر بنانا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ شاہین چوک انڈر بائی پاس آج عوام کے لیے کھولا جا رہا ہے، جس کا افتتاح وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، رواں سال طیب اردگان ایکسپریس وے کا پل اور اس جیسے کئی دیگر اہم منصوبے کامیابی سے مکمل کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ شہر کے اجڑے ہوئے پارکوں کو بحال کیا جا رہا ہے اور گرینری کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، آئندہ سال ان ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کر دی جائے گی تاکہ شہریوں کو جلد سہولیات مل سکیں۔

محسن نقوی کے مطابق حکومت نے 15 ارب روپے کی لاگت سے 18 منصوبے مکمل کیے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید بڑے منصوبے شروع کیے جائیں گے، اسلام آباد میں ایک میگا کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے جو ملک کے خوبصورت ترین اسٹیڈیمز میں شامل ہوگا جبکہ شہر کی جیل کی مرمت کا کام بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح اسلام آباد کی خوبصورتی ہے، اس کے بعد ہریالی کو فروغ دینا ہے، ہر درخت کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر کسی منصوبے کے لیے ایک درخت کاٹنا پڑے تو اس کے بدلے سو نئے درخت لگائے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ تمام اقدامات شہریوں کو بہتر ماحول اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ اسلام آباد حقیقی معنوں میں ایک ماڈل دارالحکومت بن سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر داخلہ اسلام آباد نے کہا کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا