خوارج کے خلاف کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو آگاہ کیا۔ کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اقدامات اور خوارجیوں کے خلاف جاری آپریشنز پر گفتگو بھی کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی، جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو آگاہ کیا۔ کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اقدامات اور خوارجیوں کے خلاف جاری آپریشنز پر گفتگو بھی کی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قیام امن اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت اس ضمن میں ہر طرح سے سپورٹ کے لیے تیار ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج اور سہولت کاروں کا خاتمہ مشترکہ اقدامات سے کیا جا رہا ہے، خوارجیوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی خیبر پختونخوا کے خلاف
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔